Thursday, 7 November 2013

زمانے کے انداز بدلے گئے

زمانے کے انداز بدلے گئے مگر کتنے بدلے گئے؟ کیا کسی نے غور کیا کہ لوگ کیسے تبدیل ہوتے ہیں؟ ان کے رویے کس بات کی نشاندہی کرتے ہیں؟ کسی بھی وقت، دور یا عشرے کے لوگوں کے معمولات کیا ہیں اور وہ کسی بات یا واقعے پر ان کا ردعمل کیسا ہوتا ہے اور کیا وجوہات اس رد عمل کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ کسی زمانے میں چوری ڈکیتی اور اغوا کے واقعات لوگوں کے ہوش و حواس اڑا دینے کے لیے کافی ہوتے تھے اور اب قتل جیسے ہولناک اور دردناک واقعات روزانہ درجنوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور لوگ اپنی زندگی کے معمولات میں ایسے مگن رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔

 یہ عمومی بےحسی اور دلوں کی سختی ہم میں کہاں سے آگئی ہے؟ ہم کب اور کیسے لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں یہ بات نہایت ہی افسوسناک ہے کہ ہمارے رویے انسانی سے زیادہ حسابی ہو گئے ہیں۔ کسی بھی شخص یا انسان کی کب کیوں کیسے مدد کرنی ہے؟ کب کیوں کیسے اس کی بات سننی ہے اور کس حد تک کسی کو برداشت کرنا ہے۔ ان سب باتوں کا تعین ہم اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے مطابق کرنے لگے ہیں۔یہ سب ہمیشہ سے تو ایسے نہیں تھا۔کچھ تبدیل ہوا ہے ہمارے ساتھ۔ مادی اور معاشی دوڑ کو ہم نے اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ انسانی جذبات اور احساسات بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔


یہ سب تبدیل کیسے ہوگا؟ اور کون کیسے اس معاملے کو سلجھا سکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم شائد یہ تیز رفتاری اور کشمکش ہمارے اپنے اندر ہے جس کو خود ہمارے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ٹھیک کر سکتا۔اس کے لیے ہمیں خود اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا پڑے گا اور اپنے ساتھ بیٹھنا پڑے گا اور اپنی ترجیحات کو دوبارہ سے دُہرا کر ٹھیک کرنا پڑے گا۔