!کچھ میرے بارے میں


میرا نام سعد انوار ہے اور میں ایک شوقیہ لکھاری ہوں۔ خس و خاشاک زمانے مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ایک ناول کا نام ہے اور اس بلاگ کا نام اسی ناول سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا، مگر بعد میں  کچھ وجوہات کی وجہ سے اس بلاگ کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب یہ سعد انوار بلاگ کے نام سے چل رہا ہے ۔میں کوئی مستند یا مشہور لکھاری نہیں ہوں۔ شوقیہ لکھتا ہوں اور"روٹی تو بہر طور کما کھائے ہے مچھندر" کے مصرعے پر پورا اترنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈسٹری میں پچھلے دس برسوں سے مصروف ہوں۔

بہ حیثیت ایک لکھاری کے مجھے کہانیاں اور ناول لکھنے کا شوق ہے اور میں کئی کہانیاں لکھ چکا ہوں اور اپنے پہلے ناول پر کام کر رہا ہوں۔ ایک لکھاری کے لیے سب سے اہم شرط پڑھنا ہوتی ہے۔مجھے بھی کہانیاں، آپ بیتیاں، ناول، افسانے، سفر نامے اور شاعری پڑھنے کا شوق ہے۔ میرے پاس 400 سے اوپر کتابیں جمع ہیں اور دن بہ دن ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لکھنے اور پڑھنے کے علاوہ مجھے کرکٹ دیکھنے اور کھیلنے کا جنون ہے۔ میں ایک مقامی کلب سے کرکٹ کھیلتا ہوں اور اس کھیل کا شوق میری رگ رگ میں موجزن ہے۔

سیرو سیاحت کا شوق مجھے کتابیں پڑھنے سے ہی ہوا ہے اور کئی سفرناموں اور اچھے ناولوں کے مطالعے کے بعد اس بات کا احساس ہوا ہے کہ اچھی کہانی اور کرداروں کی تعمیر کے لیے آپ کو سیروسیاحت بڑی مدد دیتی ہے۔

میں نانگا پربت کے بیس کیمپ تک جا چکا ہوں اور یہ سفر میرے لیے کافی پرلطف اور دلچسپ تھا، اس سفر کی داستان بھی ایک سفر نامے کی صورت میں لکھی جا رہی ہے اور اس کے دو ابواب مکمل ہو چکے ہیں۔اطلاعاَ عرض ہے کہ یہ سفر نامہ مکمل  ہو چکا ہے اور اب کسی خدا ترس پبلشر کی تلاش ہے جو اسے چھا پ دے۔ 

اگر آپ اتنا پڑھ کر اکتائے نہیں تو مزید عرض کروں کہ اگست کی ایک عام سی صبح لاہور شہر میں پیدا ہونے کے بعد سے میں کراچی میں رہائش پزیر ہوں لیکن لاہور کی شدید محبت بھی مجھے اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔

اس بلاگ کا مقصد کسی قسم کی علمیت اور قابلیت کا مظاہرہ کرنا نہیں ہے۔ وہ تمام خواتین و حضرات جو اس بلاگ سے کسی بھی قسم کی علمیت، قابلیت، اور فلسفہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے پائے گئے وہ اس کے نتائج کے  خود ذمہ دار ہیں۔

تو پھر یہ بلاگ کیا ہے اور کیوں ہے؟ یہ بلاگ صرف ایک اظہار ہے۔ منتشر اور پریشان خیالات کا اظہار جو ہر گزرتے دن کے حالات و واقعات کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔یہ خیالات کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔اسی لیے بس انہیں پڑھ لیجئے اور آگے بڑھ جائیں ہاں اگر کچھ لفاظی اور مکاری پسند آ جائے تو یہ آپ کی ذرہ نوازی، اونچے ظرف  اور حوصلہ افزائی  جیسی اعلیٰ صفات کی واضح نشانی سمجھی جائے گی۔