Monday, 17 March 2014

دعائے طائف

دعائے طائف

ترجمہ: اےمیرے اللہ !میں تجھ سے اپنی طاقت کی کمزوری، بے بسی اور لوگوں کے ہاں اپنی بے بسی کا شکوہ کرتا ہوں۔یا ارحم الرٰحمین، تو کمزوروں کا رب ہےاور تو میرا بھی رب ہے، تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کسی ایسے بے گانے کے جو میرے ساتھ تلخی سے پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے جسے تو نے میرے معاملے کا مالک بنا دیا ہے، الہٰی ! اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے ، تو مجھے کوئی پروا نہیں ، لیکن تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے، میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہو گئیں اور جس پر دنیا و آخرت کے معاملات سلجھ گئے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے، یا تیرا عذاب مجھ پر وارد ہو، تیری ہی رضا مطلوب ہے، یہاں تک کہ تو خوش ہو جائےاور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں۔"
حضرت محمد مصطفیٰﷺ
یہ دعا ہمارے پیارے نبیﷺ نے طائف کے تبلیغی سفر کے دوران پیش آنے والی اذیت اور مشکلات اٹھانے کے بعد کی تھی۔اس دعا کے جواب میں اللہ تبارک تعالیٰ نے جبرائیل اور ایک اور فرشتے کو نبی پاکﷺ کی بارگاہ میں بھیجا کہ اگر آپﷺ حکم کریں تو طائف کی وادی کو دونوں پہاڑوں کے بیچ کچل دیا جائے۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ چونکہ رحمت للعالمین ہیں اس لیے انہوں نے کہا "نہیں میں آپ کو ایسا حکم نہیں دوں گا، کیونکہ مجھے امید ہے کہ ان سے آنے والی نسل میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگ بھی پیدا کرے گاجو صرف اللہ کی عبادت کریں گے۔"
دعا کا ترجمہ اور نبی پاک ﷺ کا فرشتوں کو جواب جناب محمد رفیق ڈوگر کی سیرت کی کتاب الامینﷺ سے اخذ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجئے:
الامینﷺ
محمد رفیق ڈوگر
جلد 1 صغحہ439-440