زمانہء اول

Short Stories|Saad Anwar|Urdu
زمانہء اول سے مراد میری اولین یادوں پر مشتمل کہانی ہے! اس کہانی کا مقصد اپنی آپ بیتی لکھنا نہیں ہے بلکہ ایک ہلکے پھلکے انداز میں اپنی بچپن اور لڑکپن کی زندگی کی کچھ یادوں کا ذکر کرنا ہے۔ کوشش یہ ہے کہ زندگی کے اُن واقعات و حالات کو بیان کیا جائے جو پُرمزاح ، سبق آموز، حیرت انگیز یا کسی بھی زاویے سے دلچسپ تھے۔ 
زمانہ ء اول کی پہلی یادوں میں سے میری یادیں بچپن کے اُن واقعات میں سے ہیں جو بس حافظے میں چپکی رہ گئی ہیں اب ان میں سے کوئی دلچسپی تلاش کرنا شائد کسی دوسرےانسان کے لیے مشکل امر ہو مگر بہ ہر حال یہ واقعات ہیں تو سہی اور ان کا بیان کیا جانا ضروری ہے۔

خاندان اور والدین
میرا خاندان ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا خاندان ہے جو 1947ء میں ہندوستان کےضلع شاہجہاں پور سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ شاہ جہاں پور دہلی سے تقریباَ 300 کلومیٹرمشرق میں واقع ہے اور اب ہندوستان کا ایک ضلع ہے۔ ہندوستان سے ہجرت کے بعد میرا ننھیالی خاندان لاہور میں رک گیا جب کہ دادا اپنے اہل و عیال کے ساتھ روزگار کی تلاش میں پہلے واہ کینٹ اور پھر کراچی آگئے۔ ہمارا ددھیالی خاندان مشترکہ خاندانی نظام پر قائم تھا جو ہمارے دادا اور دادی کی وفات کے بعد تھوڑے عرصے قائم رہا اور پھر معاشی اور خانگی مسائل کی وجہ سے گھر کے افراد کراچی کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہو گئے۔ میری نانی اور دادی آپس میں سگی بہنیں تھیں اور میری نانی اپنے شوہر (میرے نانا) کے ساتھ لاہور میں رُک گئی تھی ۔
میرے والد محمد انوار الحق  کی پیدائش واہ کینٹ میں ہوئی تھی لیکن دادا کے کراچی آنے کے بعد انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اور روزگار کراچی میں حاصل کی۔
میری والدہ جمیلہ خاتون  کی پیدائش لاہور میں ہوئی اور انہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس دور میں متوسط خاندانوں میں کسی کا بھی بی اے تک تعلیم حاصل کرنا نہایت ہی بڑی بات سمجھا جاتا تھا، اور لڑکیاں تو شاذو نادر ہی اتنی تعلیم حاصل کر پاتی تھی۔ میری والدہ ہمارے خاندان میں پہلی خاتون تھیں جنہوں نے گریجویشن مکمل کی۔ میری والدہ کی شادی جب کراچی میں مقیم اپنے خالہ زاد (میرے والد) سے ہوئی تو انہیں کراچی آنا پڑا۔

پیدائش

میری پیدائش8 اگست 1983 کو میرے نانا کے گھر(لاہور) میں ہوئی جہاں وہ ریلوے کے ملازم تھے۔والٹن کا یہ گھر تو مجھے یاد نہیں لیکن والدہ کے مطابق وہ ایک بڑا سرکاری گھر تھا جہاں میرے نانا اور ان کا خاندان مقیم تھا۔ اپنے بہن بھائیوں میں میرا نمبر دوسرا تھا اور میں بچپن میں بہت شریر اور چلبلا تھا ایک لمحے کے لیے بھی نچلا بیٹھنا میری فطرت میں نہیں تھا اور اپنے تایا کے دومنزلہ مکان میں چھت سے لے کر نچلی منزل تک پھدکتے رہنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ میرے دادا کی وفات کے بعد میرے تایا نےسن1978ء کی شروعات میں نارتھ کراچی میں اپنا ذاتی مکان تعمیر کروانا شروع کیا۔ سن1980ءتک میرے تایا اپنے خاندان(بیوی بچوں اور بہن بھائیوں) کے ساتھ اس گھر میں منتقل ہوگئے۔      اس دور کا ایک واقعہ تھا جو ہم نے سب سے پہلے اپنے بڑوں سے سنا جو آج تک میرے ذہن میں نقش ہے۔

نارتھ کراچی اس دور میں کراچی سے باہر سمجھا جاتا تھا اور ایک اُجاڑ بیاباں، جھاڑیوں اور خالی میدانوں والا علاقہ تھا جہاں سے نزدیک ترین آبادی بھی تقریباَ 15 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ اس دور میں واحد چلنے والی بس بھی نارتھ کراچی سے 3 کلومیٹر دور تک آتی تھی جہاں سے میرے گھر کے افراد پیدل گھر تک آیا کرتے تھے۔راستے میں جھاڑیاں سنسان بیاباں کی طرح خالی میدان اور کسی انسان کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہوتا تھا۔


تایا، چھوٹا لڑکا اور پُراسرارروشنی

ایسی ہی ایک سنسان اور دل کو پریشان کر دینے والی تنہائی میں میرے تایا جو مقامی کالج   (DJ Science College) میں لیکچرار تھےایک شام کہیں سے ٹیوشن پڑھا کر واپس آ رہے تھے۔ بس کیونکہ اپنے آخری اسٹاپ تک کا سفر کررہی تھی اس لیے بس میں صرف میرے تایا اور ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جو کمبل اوڑھے بیٹھا تھا۔جب میرے تایا اپنے گھر سے تین کلومیٹر دور آخری اسٹاپ پر اترے تو شام کا جھٹپٹا سا تھا اور مغرب ہونے والی تھی۔ تایا پیدل گھر کی طرف روانہ ہوئے تو وہ بچہ بھی ان کے ساتھ ہی اتر گیا اور ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ میرے تایا نے ازراہ شفقت اس بچے سے پوچھا کہ بیٹا کہاں جاؤ گے تو اس بچے نے ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کیا۔ تایا نے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھا تو ان کے گھر کی مخالف سمت میں بہت دور ایک لالٹین سی جلتی دکھائی دی اس وقت تک وہاں بجلی اور گیس جیسی چیزوں کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ میرے تایا نے سوچا کہ ایک چھوٹا سا لڑکا ہے اس کو چھوڑ آتا ہوں ایسا نا ہو کہ کوئی جانور وغیرہ اسے تنگ کرے۔ آبادی نا ہونے کی وجہ سے وہاں اکثر جنگلی جانور وغیرہ پائے جاتے تھے.

میرے تایا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے چھوڑنے کے لیے اس کی بتائی ہوئی سمت چلنے لگے۔جیسے جیسے میرے تایا اس سمت بڑھنے لگے انہیں سردی لگنا شروع ہو گئی اور ان کے مطابق کچھ دیر چلنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ دُور دِکھنے والی روشنی قریب ہونے کی بجائے اتنے ہی فاصلے پر دکھ رہی ہے۔ میرے تایا نے لڑکے سے پوچھا کہ بیٹا اور کتنی دور ہے تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر ہاتھ کا اشارہ اس روشنی کی طرف کر دیا۔ میرے تایا نے تھوڑی دور مزید چلنے کے بعد جب غور کیا تو انہیں لگا کہ لڑکے کے جسم پر لپٹا ہوا کمبل، کمبل نہیں ہے بلکہ ریچھ کی طرح کے بال ہیں۔ یہ محسوس کرتے ہی میرے  تایا شدید خوفزدہ ہو گئے اور لڑکےکا ہاتھ چھوڑنے کی کوشش کی مگر اپنا ہاتھ چھڑا نا سکے۔ جب میرے تایا نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ لڑکا جو قد میں ان سےکئی فُٹ چھوٹا تھا اس کا قد بڑھنے لگا ہے اور ہاتھ پر اس کی گرفت میں طاقت اور سختی واضح طور سے محسوس کی جاسکتی ہے تو میرے تایا نے جتنی بھی قرآنی آیات انہیں یاد تھی ان کی تلاوت شروع کی اور اپنا ہاتھ چھڑوانے کے لیے زور لگانے لگے۔ جیسے ہی انہوں نے زور آزمائی شروع کی تو انہوں نے واضح طورسے محسوس کیا کہ وہ جسے کمبل سمجھ رہے تھے واقعی بال ہیں اورخار پشت چوہے کی طرح وہ بال کھڑے ہو گئے ہیں۔ میرے تایا نے آیۃالکرسی کا ورد کرتے ہوئے زور لگایا تو ان کا ہاتھ اس لڑکے کی گرفت سے نکل گیا اور میرے تایا نے بغیر سوچے سمجھے اپنے گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ دوڑ لگاتے ہوئے کئی دفعہ وہ لالٹین نما روشنی کبھی دائیں سمت اور کبھی بائیں سمت دکھائی دی لیکن وہ آیۃالکرسی کا ورد کرتے ہوئے دوڑتے رہے ۔ کافی دیر تک بھاگنے کے بعد جب ان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ رُکے تو انہیں احساس ہوا کہ وہ دوبارہ آخری بس اسٹاپ تک پہنچ گئے ہیں۔ وہاں سے گھر تک کا سفر کرنے کی ان کی ہمت نہیں تھی لیکن مرتے کیا نا کرتے کے مصداق وہ چل پڑے اور پورا راستہ آیۃالکرسی کا ورد کرتے رہے  لیکن اس بار انہیں وہ لالٹین نما روشنی اور وہ ریچھ جیسا لڑکا کہیں بھی نا دکھا اور گھر پہنچنے کے بعد وہ کئی دن بخار کا شکار رہے۔

یہ واقعہ ہماری والدہ نے ہمیں کئی بار سنایا اور میں ہر بار اس واقعہ کی شدت، اس علاقے کی تنہائی، ویرانی اور سنسان ہونے کا سوچتا ہوں اور ایک نوجوان شخص کو اس سنسان ویران جھاڑیوں والے علاقے میں دوڑتا محسوس کرتا ہو تو آج بھی اُتنا ہی شدید خوفزدہ ہوجاتا ہوں جتنا بچپن میں اس واقعہ کو پہلی دفعہ سننے کے بعد ہوا تھا۔