Thursday, 11 June 2015

ایک چھوٹی سی لایعنی پوسٹ جو ایک خوشگوار یاد میں تبدیل ہوگئی

پہلے سوشل میڈیا پر کچھ لکھا، پھر اسے مٹا دیا، پھر تیزی سے بدلتے اور گزرتے ہوئے ادوار پر کچھ لکھا، پھر اسے بھی مٹا دیا۔ پھر بدلتی ہوئی معاشی، معاشرتی ، اور سماجی روایات پر لکھااور اسے بھی مٹا دیا۔ یہ چوتھی دفعہ کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر آپ اسے پڑھ رہے ہیں تو یہ بات یقینی ہے کہ میں نے اسے نہیں مٹایا۔ بہت حیران کن امر ہے کہ تین بہت ہی اچھے موضوعات پر لکھے ہوئے معلوماتی الفاظ مٹا کر میں یہ بے معنی اور لایعنی حروف جوڑ رہا ہوں۔  لیکن بعض دفعہ ایسا چلتا ہے، بلکہ ایسا کئی دفعہ چلتا ہے۔

اتنا لکھنے کے بعد مجھے لگا کہ لفظ  "دفعہ" کی گردان بہت ہوگئی ہے، پھر مجھے شک ہو اکہ یہ لفظ   ایسے (دفعہ)لکھا جاتا ہے کہ ایسے(دفع)، ایک صورت میں اس کے معنی کچھ بنتے ہیں اور دوسری صورت میں کچھ اور، پھر خیال آیا کہ جب اتنی ساری بکواس لکھ چکا ہوں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دفعہ/دفع کیسے لکھا جاتا ہے۔مگر ذہنی رو کا کیا کیجئے کہ مجبور ہو کر اس لفظ کو لغت میں ڈھونڈنے پر مجبور ہو گیا۔
لغت میں لفظ دفع کے آگے یہ تعریف لکھی ہوئی ملی:

"عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر دفع کے ساتھ ہ بطور لاحقۂ نسبت لگائی گئی ہے اردو میں سب سے پہلے 1792ء کو "تحفۃ الاحباب" میں مستعمل ملتا ہے۔"

مجھے پوری امید ہے کہ  نئی پود کے جوانوں کو یہ پورا جملہ پڑھنے میں جو مشقت اٹھانی پڑی ہوگی، وہ انہیں شائد نصابی اردو کے کسی مضمون کی یاد دلا دے۔ یہ سطریں لکھ ہی رہا تھا کہ ذہن خود بہ خود پندرہ سال پہلے  کے دور میں واپس جانے کی کوشش کرنے لگا۔ یادوں کے دریچوں سے ایک شخصیت یو ں جھانکے لگی کہ دل بے ساختہ مجبور ہو کر انہیں یاد کرنے لگا۔ ایک مشکل لفظ کے معنی لغت میں ڈھونڈنے کی مشقت نے مجھے ہماری کالج کی کلاس کو اردو پڑھانے پر معمور ایک منحنی سے استاد  کی یاد دلادی۔ نام تو اس وقت ذہن سے محو ہو گیا ، مگر اسوقت ان کا سراپا ذہن پر کچھ اس طر ح سے چھایا ہوا ہے کہ اگر مصور ہوتا تو ان کانہایت ہی شاندار پورٹریٹ بنا سکتا تھا۔ 

دھان پان سے سیاہ شیروانی اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس   ،کالج کے ساتھ ملحقہ سڑک کےایک جانب چلتے ہوئے ، اپنی ہی لکھی ہوئی کوئی غزل ، کبھی تحت اللفظ اور کبھی ترنم سے گنگناتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ ایسے شفیق اور کریم النفس کہ راہ چلتے کوئی طالبِ علم سوال پوچھ لیتا تو جب تک اس کی تشفی نا کردیتے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ بعض نالائق طلباء ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر باری باری کسی لڑکے کو راہ چلتے سوالات پوچھنے کے امر پر معمور کرتے  تاکہ استادِ محترم کلاس میں نا پہنچ پائیں۔  لیکن استاد ِ محترم نے کبھی کسی لڑکے کو مایوس نہیں کیا، ہر سوال کا جواب ایسے دیتے جیسے اس لڑکے کی زندگی و موت کا سوال ہو۔  ادھر بعض ہم جیسے طلباء بھی گویا اس  امر پر قدرت کی جانب سے معمور کیے گئے تھے کہ کالج میں داخل ہوتے ہی ان کے آگے پیچھے کچھ اس طرح غول درغول کا مجمع لگا ئیں کہ وہ ایسے لفنگے اور بے ادب طلباء کے اوچھے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہ سکیں۔ خود ہی کہا کرتے تھے "میا ں ! ہم جانتے ہیں، کہ شریر وں کا کیا مقصد ہے۔ مگر پھر سوچتے ہیں کہ شائد اسی بہانے کوئی بات  سیکھ جائیں ۔" اب کوئی بتائے کہ ایسے شریف النفس انسان کو کون کیا کہہ سکتا ہے۔

اردو کے بعض قدیمی شعراء کا کلام انہی کے منہ سے سنا ، کلا س میں شاذونادر ہی کبھی کورس کی کتاب کو ہاتھ لگایا ہو، مگر ایسے غضب کی یاداشت کے مالک کہ ہزاروں اشعار یاد تھے۔ میر تقی میر کے بہت بڑے معتقد تھے، مداح اس لیے نہیں لکھا کہ میر تقی میر کی داستان اور شاعری سناتے ہوئے جس طرح وہ ٹھنڈی آہیں بھرا کرتے تھے وہ مداح سے زیادہ کوئی عاشق ہی کرسکتاہے۔ ان پر چچا غالب کا یہ شعر خوب صادق آتا تھا:

غالب اپناتو  یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ  ہےجو معتقدِ میر نہیں ہے

وقت گزر گیا، ہم نوکری کے جنجال میں کچھ اس طرح مبتلا ہوئے کہ کبھی پلٹنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ اب جو کبھی سوچتے ہیں تو استادِ محترم کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ جس طرح وہ ہم کیکٹس جیسے نالائق طالبِ علموں پرعلم کا مینہ برساتے تھے ، وہ ذہین اور خوش مزاج طلباء کے لیے بھی قابلِ رشک تھا۔ اللہ ہمارے تمام اساتذہ کرام کو لمبی عمر اور صحت عطا فرمائے ،بہت  خوشیاں اور سکون نصیب فرمائے، اور جو  اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!
آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ ِ رخ زیبا لے کر۔