Saturday, 6 June 2015

گمشدگی

کئی مہینوں کی گمشدگی کے بعد ایک دفعہ پھر حاضرِ خدمت ہوں۔ ویسے اب تک اس بلاگ کے پڑھنے والوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے اس لیے مجھے کم از کم یہ شرمندگی نہیں ہوتی کہ میرے پڑھنے والوں کو انتظار کی کوفت اٹھانا پڑتی ہو گی۔
بہ حیثیت ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ پروفیشنل  کے میں اس بات کا اہل ہوں کہ اس بلاگ کی انٹرنیٹ پر مشہوری کے لیے خاطر خواہ  اقدامات کر سکوں۔ مگر جیسا کہ میں نے اس بلاگ کے تعارف میں لکھا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد اپنا ذہنی غبار وفشار کو الفاظ کی صورت میں باہر نکالنا ہے اس لیے مجھے اس بلاگ کی مشہوری کی کوئی خاص فکر نہیں ہے۔  
پچھلے کچھ مہینوں میں مصروفیت کا  عالم تو کم و بیش وہی رہا جو عام دنوں میں ہوتا ہے ، مگر دل پر کچھ ایسی پژمردگی چھائی رہی کہ کچھ لکھنے لکھانے سے طبیعت متنفر ہی رہی۔ اس دوران صرف دو مختصر کہانیوں  (ایک مکمل اور دوسری نامکمل )پر ہی کام ہوتا رہا، مگر اس کی رفتار بھی بہت  آہستہ رہی۔   وجہ حسبِ معمول مزاج کی سستی و کاہلی اور سہل پسندی  ہے جو کسی بھی طرح سے پسندیدہ نہیں ہے۔
اس سستی اور کاہلی کو انگریزی میں procrastination   کہتے ہیں۔   ویسے ا س لفظ کا صحیح لفظی ترجمہ تو شائد "آج کا کام کل پر ٹالنا" ہے ، مگر میری ناقص رائے میں  سہل انگاری  ایک ایسا لفظ ہے جو اس لفظ کو بہت اچھے طریقے سے واضح کرتا ہے۔  سو  میں بھی اس عادت کا شکار ہوں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتیں ہیں جو میں اپنی کسی اگلی پوسٹ میں زیرِ بحث لانے کی کوشش کروں گا۔فی الحال بس اتنا ہی، کیونکہ میری سہل انگاری کی عادت مجھے تنگ کر رہی ہے۔
فی امان اللہ۔