Monday, 8 June 2015

اوئے اسے باہر نکالو!

"اوئے اسے باہر نکالو! "  یہ جملہ کل وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق  ڈار کے منہ سے پریس کو دی جانے والی بجٹ  بریفنگ کے دوران سنا، جس میں وہ کسی صحافی کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال اور پھر اس سوال کے جواب پر کی جانے والی بحث پر چراغ پا ہوگئے۔ جس کی ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر دھوم مچا رہی ہے۔ شائد اسحاق ڈار صاحب پارلیمنٹ میں کیے جانے والے اعتراضات اور  ڈیسک نا بجانے والے لوگوں سے پہلے ہی تنگ آئے ہوئے تھے، اسی لیے غصہ بے چارے صحافی پر نکال دیا۔ ویڈیو  اور نامور صحافی طلعت حسین کا تجزیہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسی ویڈیو  کے دوسرے حصے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جب تمام صحافیوں نے مشترکہ طور پر اسحاق ڈار کے  اس ہتک آمیز رویے کے خلاف واک آؤٹ کی دھمکی دی تو کیسے اسحاق ڈار نے فورا اپنے لہجے میں مٹھاس گھولتے ہوئے مذکورہ صحافی کو اپنا بھائی قرار دے ڈالا۔ اس پر مجھے پیر پگارا مرحوم کی شریف خاندان کے بارے میں کہے جانے والی  بات یاد آگئی " یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو گردن پکڑتے ہیں اور جیسے ہی اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو پیر پکڑتے ہیں۔ "
 ویسے  مجھے اس جملے پر اتنی حیر ت نہیں ہوئی جتنی حیرت مجھے یار لوگوں کے شور مچا نے پر ہو رہی ہے۔ شور ایسے مچ رہا ہے جیسے کوئی نئی بات ہوگئی ہو۔ لوگ شائد بھول گئے کہ ان کے رشتے دار اور ہمارے پیارے وزیر اعظم محترم میاں محمد نواز شریف نے ایسی ہی ایک پریس کانفرنس میں ایک صحافی کی جانب سے کیے جانے والے کسی سوال پر اسےباہر پھینکنے کاحکم تو جاری نہیں کیا تھا، مگر  واضح طور سے اپنی خفگی اور ناراضگی کا اظہار ضرور کیا تھا۔  اس وقوع کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
بھائیوں سچ تو یہ ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں گھومتے ہوئے ان خاندانوں کے آگے ہم سب نوکری پیشہ اور مزدور طبقہ عوام کمی کمین ہی  ہیں۔ یہ ہمیں صرف اس حد تک برداشت کرتے ہیں جہاں تک انہیں ہم پر حکومت کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو ان کے کسی بھی رویے ، طریقے، پالیسی، یا فیصلے پر ان کے روبرو جائز تنقید و اختلاف کر کے دیکھ لیں۔ یہ فوراَ اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے کہیں گے "اوئے اسے باہر نکالو!"