Sunday, 26 October 2014

قوالی

مجھے موسیقی کی کچھ زیادہ سوجھ بوجھ تو نہیں ہے، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ کسی بھی قسم کے گیت کی صنف ہو بس اگر اس کی دھن کانوں کو بھلی لگتی ہو تو وہ میں سنتا ہوں اور پسند کرتا ہوں۔ اب اس میں موسیقی کی زبان یا صنف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ انگریزی موسیقی بھی ہوسکتی ہے، کوئی لوک گیت بھی ہو سکتا ہے یا کوئی غزل یا کوئی پکا راگ بھی ہو سکتا ہے۔ موسیقی دل میں سوز یا اثر پیدا کرنے کا پورا اختیار رکھتی ہے۔

قوالی کی صنف بھی ایک ایسی ہی صنف ہے جو جوبرصغیر پاک  وہند کے صوفیاء کرام نے اپنی محفلوں میں متعارف کروائی۔ سماء کی محفلیں سوزِ  قلب کو پانے کا ایک موثر ذریعہ سمجھی جاتی تھیں۔ یوں تو یہ ایک نہایت ہی مناسب موقع ہے کہ میں یہاں قوالی کی تاریخ بیان کروں اور امیر خسروؒ کے ذکر ِ مبارک سے ہوتا ہوا  برصغیر پاک وہند کے نامور گھرانوں کا تذکرہ کروں ، مگر سستی آڑے آتی ہے اور میں اس پرمشقت کام سے جان چھڑاتے  ہوئے صرف ایک وعدے پر اس لایعنی مضمون کا اختتام کرتا ہوں کہ میں قوالی پر ایک مفصل مضمون لکھنے کی کوشش کروں گا۔  اب آپ چچا غالب کا یہ شعر پڑھیں اور انتظار کریں کہ کب یہ وعدہ وفا ہوتا ہے:
تیرے وعدے پر جیے تو جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نا جاتے گر اعتبار ہوتا۔