Showing posts with label Short Stories. Show all posts
Showing posts with label Short Stories. Show all posts

Wednesday, 5 February 2014

سن تو سہی جہاں میں تیرا فسانہ ہے کیا


وہ بھی کیا دور تھا جب ہم چھوٹے ہوا کرتے تھے اور کسی کام کاج کی کوئی فکرنہیں تھی۔ لیکن یہ کیا کہ جیسے ہی تھوڑا بڑے ہوئے لوگوں نے توقعات باندھنی شروع کر دیں۔ توقعات بھی ایسی ایسی کہ بقول غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
کسی رشتے دار کو یہ توقع کہ یہ چھوٹے میاں بڑے ہو کر سرکاری افسر بنیں گے۔ کسی محلے والے کی دعا کہ شانی میاں تو وزیر بنیں گے (موجودہ سیاسی تناظر میں اب تو یہ بد دعا لگتی ہے)۔ گھر والوں کی خواہش کہ ہمارا بیٹا انجینئر بنے۔ اگر وہ نہیں بنتا تو کم از کم ڈاکٹر تو بن ہی جائے ورنہ فوج میں بھرتی ہو کر شہادت کا رتبہ پا لے تاکہ گھر والوں کی عاقبت ہی سنور جائے۔

لیکن قسمت کے لکھے کو کیا کریں کہ جب ہم چھوٹے تھے تو دل میں سوائے دولہا بننے کے اور کوئی خواہش ہی نہیں تھی۔ تھوڑا بڑے ہوئے اور اس خواہش کے پورا ہونے کے مضمرات سمجھ اور نظر آئے (شادی شدہ دوستوں کا حال دیکھ کر) تو ہم نے صدقِ دل سے توبہ کی اور خدا سے اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی طلب کی۔ پھر سوچا گیا کہ بھئی اب کیا بنا جائے؟

پڑھائی لکھائی کی طرف اپنا رجحان دیکھتے ہوئے اور ہمارے استادوں کے مسلسل حوصلہ شکن بیانات کی روشنی میں، جو وہ ہر سال کی رپورٹ کارڈ پر نہایت عمدہ رسم الخط میں درج کیا کرتے تھے، ہمارے گھر والوں نے ہم سے باندھی ہوئی توقعات کو کچھ اس طرح سمیٹا تھا کہ "کبھی ان کو اور کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں" کا مصرعہ نہایت ہی عبرت ناک انداز میں ہم پر چسپاں ہوتا تھا۔ خیر گھر والوں کی بددلی اور خود سے اُن کی مایوسی دیکھ کر ہمیں کچھ احساس ہوا کہ بھئی زندگی میں کچھ تو کرنا چاہئیے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہم نے مختلف جگہوں پر نوکری کے لیے درخواستیں جمع کروانی شروع کیں اور "ضرورتِ رشتہ" کے صفحات کا پیچھا چھوڑ کر "ضرورت ہے" کے اشتہارات دیکھنے لگے۔ ویسے یہ ایک دلچسپ مشق تھی۔ کئی اشتہارت اتنے اشتہا انگیز اور لذیز ہوتے تھے کہ ہم سوچتے تھے کہ کیا ضرورت ہے چند ہزار کی نوکری ڈھونڈنے کی اس امریکن بیوہ سے شادی کر لیتے ہیں اور باقی زندگی عیش سے گزارتے ہیں۔ کیا ہوا جو ہمیں اس جانور سے تشبیح دی جائے گی جس کا پالنا تو درکنار اپنے گھر میں حفاظت کے نقطہء نظر سے رکھنا بھی ہر مسلمان حرام سمجھتا ہے۔ لیکن اقبال نے ہمیں ایسے موقع پر جھنجھوڑا اور غلامی اور خوابِ غفلت میں پڑے رہنے پر بُرا بھلا کہا۔ یہ اقبال ہمارا بچپن کا دوست اقبال ہے، کیونکہ اگر ہم شاعرِ مشرق کے کلام کو سمجھ سکتے تو کسی یونیورسٹی کے پروفیسرہوتے۔

خیر قصہ مختصر، تھوڑے ہی عرصے میں ہمیں ملاقات کے سندیسے آنے لگے۔ اب ملاقات سے مراد وہ ملاقاتیں نہیں تھیں، جو اکثر آپ کو کسی سرسبز باغ کی گھنی جھاڑیوں کے پیچھے دکھتی ہے اور نا ہی یہ اس ملاقات کا سندیسہ تھا کہ جس کے اختتام پر نعرہ لگتا ہے "ملاقات کا 'ٹیم' ختم ہو گیا ہے"۔ یہ ان دونوں ملاقاتوں سے زیادہ خطرناک ملاقات یعنی انٹرویو کے سندیسے تھے۔ ہر ملاقات پر یہ سوال ضرور پوچھا جاتا کہ "پانچ سال بعد خود کو کہاں دیکھتے ہیں" اب یہ سوال ایسا دہشت ناک تھا کہ جس کا جواب ہم اپنی تعلیمی زندگی کے دوران اور مختلف تجربات اور اساتذہ اور ساتھیوں کی ہمت افزائی کے باعث کبھی حوالات، پاگل خانے، قومی و صوبائی اسمبلی، اور اگر بہت دل بڑا کر لیا جائے تو کسی سڑک کے کنارے جھاڑو پھیرتے ہوئے دیکھا کرتے تھے، لیکن اب یہ سب تو انٹرویو کرنے والے کو نہیں بتایا جاسکتا تھا۔ اس لیے ہم نے اپنی طرف سے ایک فرضی مستقبل تراش لیا۔ 

"ہم خود کو پانچ سال بعد اس ملک کے سب سے بڑے لکھاری اور شاعر کی صورت میں دیکھتے ہیں"۔ یہ تھا وہ جواب جس کو سنتے ہی تقریباَ تمام انٹرویو کرنے والوں کے منہ کھلے کہ کھلے رہ جاتے۔ ایمان کی بات ہے کہ آخری چند انٹرویو سے، ہم بھی انٹرویو کرنے والوں کی اس کیفیت کا حِظ اٹھانے لگےہیں۔ کیونکہ اس جواب سے پہلے، انٹرویو کے باقی تمام وقت ہمارا منہ ہی "ہکہ بکہ" کی کیفیت میں کھلا رہتا تھا۔ ایک خوش شکل بی بی تو اس قدر حیران ہوئیں کہ انٹرویو کے باقی تمام سوالات پوچھنا ہی بھول گئیں اور گھبراہٹ میں پانی کی بوتل میز پر انڈیل بیٹھیں۔ پتا نہیں موجودہ دور کی خواتین شاعروں اور لکھاریوں سے اتنا گھبراتی کیوں ہیں۔ ہم نے پوچھا تو نہیں لیکن ہمیں شبہ ہے کہ اس خوش شکل بی بی نے جوش ملیح آبادی کی "یادوں کی برات" پڑھ رکھی تھی۔ شاعروں کے کردار کا جتنا بیڑا غرق اس ایک کتاب نے کیاہے، پچھلی صدی کے تمام نکمے، ناکارہ، ناکام، اور عشق پیشہ شاعروں نے مل کر بھی اتنا نقصان نہیں پہنچایا۔

شاعروں کا نکما پن، پینے پلانے کی عادات، بلاتفریقِ جنس معاشقے، کسی بھی تعمیری کام میں عدم دلچسپی، سیاسی معاملات میں زبان درازی اور ان سب کے نتیجے میں حوالات کی سیر جیسے نا مٹنے والے نشانات تمغوں کی صورت میں شاعروں اور لکھاریوں کی آنے والی تمام نسلوں پرچسپاں ہو گئے۔ اب کسی شاعر کے بارے میں لوگوں کو پتا چل جائے کہ یہ "مشروبِ مغرب" سے شغل نہیں فرماتے تو لوگ حیرت سےپوچھتے ہیں "ارے! شراب نہیں پیتے؟ تو شاعری کیسے کرتے ہیں؟" اکثر صورتوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں کا اُس شاعر یا لکھاری سے اعتبار ہی اٹھ جاتا ہے، "ضرور کسی اور سے لکھواتے ہوں گے"۔


خیر جناب ہم شاعر یا ادیب بن سکیں یا نہیں، مگر یہ تو طے ہے کہ اپنے تئیں  اپنا  تعارف مستقبل کے عظیم شاعر اور لکھاری کے طور سے ہی کرواتے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسا منصب ہے جس کو حاصل کرنے میں ناکام ہونا ہی کامیابی کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اگر آپ شاعر اور لکھاری کی حیثیت سے کامیاب نا ہوسکیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ابدی اور آفاقی پیغام کو یہ زمانہ سمجھ ہی نہیں سکا اور ہمارے جانے کے بعد ہماری اور ہمارے کلام کی قدر کی جائے گی۔ جیسے کے ہر مشہور ادیب اور شاعر کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارا کلام ردی میں تُلے یا پھر سموسے اور پکوڑے لپیٹنے کے کام آئے۔

Thursday, 21 November 2013

مختصر مختصر

تھکاوٹ، بیزاری، اضطراب، اور غم نے دل کو پریشان کر رکھا ہے۔ بہت کچھ سوچنے کے بعد اور کافی عرصہ محنت کے بعد دوبارہ وہاں آجائیں جہاں سے چلے تو کیسا محسوس ہوتا ہےیہ مجھے آج پتا چلا۔ لیکن ہر آزمائش میں مواقع چھپے ہوتے ہیں اور بہت کچھ سیکھنے اور آزمانے کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح یہ وقت بھی ہے بہ قول ناصر کاظمی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نا کر زندگی پڑی ہے ابھی
حوصلہ، صبر اور تھوڑی محنت اے دل انشاءاللہ کامیابی تیرا مقدر بنے گی۔حوصلوں کو بلند رکھنا ہے اور پرواز اونچی رکھنی ہے۔


Sunday, 17 November 2013

Fugitive (First Part)

He was panting and his lips were dry but he could not stop. The night was fading quickly and he could not risk to be seen in the daylight. His cloths filled with dirt and mud stains. His pants became shorts just below his knees due to continuous sleeping on the dirt and mud. He quickly looks around and cross the road and ran in to the forest.

He was running from the police, the town police was looking for him. Being a fugitive for last 2 days does not left him with much peace and calmness and all his efforts to just get out of the town were not successful. He wanted to sleep without any fears but he could not sleep, his tummy was growling like a bear but he has nothing to eat. He wants to quench his thirst but he didn't find any water around. The forest was not dense and dark enough to hide his presence. The nearest town was a small town but people do come in to forest for different purposes. The farmers, herd breeders, and small kids in groups often come to this small forest.

He went straight to the small lake and sink his head in to it, he drank like there is no tomorrow. Suddenly something cracks and he quickly raised his head out of water. He saw a deer strolling near the lake and sight of it freed his breath which was caught up in his chest. He took a deep breath and lay on his back watching the sky and the sun rays emerging from the east.

While laying on the muddy part of the lake he closed his eyes and thought of all the beautiful things which forced him to run from the jail. His 6 months old daughter, his beautiful wife with her green eyes, his mother and her old trembling hands which trembles more due to sheer happiness every time she saw him, the porch of his home and the view of the mountain from it.

The thought of his family and home proved too much for him, he clasped the mud in his hands and yelled with all his might and started crying. He cried, then he started pleading and begging to God to let him be with his family once more so that he can make up for all the mistakes he did in the past. He cried and begged for help for a while then his cries turns in to sobbing and after a while he washed his face and hands and went in to the woods to look for the food. He searched for the beetroot which he thought would be in quite abundance in the woods. He remembers the scent of beetroot since his childhood at his grandfather’s farm. He didn't find anything edible after searching for an hour. His body could not take it anymore and he fell to the ground.

He remembered clearly everything from his past but he could not remember how he escaped from the jail. He wanted to concentrate so that he could devise a plan to escape from this town but his thoughts from his past were so overwhelming that he could not concentrate to think a way out of this trouble. At one point his head was filled with so many thoughts that in desperation and anger he banged his head several times to a tree.

He wanted to be with his family but he soon realized that police and authorities would be monitoring all his possible addresses. He cannot go to his family directly. He needs an alternative plan to get out of this town and then stay out of the police’s radar while contacting his family. He could not think of anything which could help him achieve this goal. He sat under a tree and watched sun coming up behind the trees. The woods weren't thick enough to hide a person sitting under a tree in cloths marked with jail markings and lines.

The first one to see him was a herder who came to cut some grass and soft tree branches for his herd. As soon as he saw him he stumbles upon something and ran as soon as he manages to get up. He realized that soon police will show up and he has no other way except to leave this place immediately. He started to run in opposite direction and soon found himself at border of field.

He saw a small kid swaying a stick and moving away from him towards a wooden cabin at the end of the fields. He was thirsty again and he could not continue running without quenching his thirst. He came out of the woods and called the boy “Hey kiddo!” the kid turned and his eyes grew wider due to astonishment and excitement of watching a stranger. However the kid stopped in midway and raised his hand as if he was asking the man “what do you want?”. He smiled and that smile relieved his tension and anxiety a bit as he realized that he can still manage a smile and still small things can make him happy. He went to the kid and sat near him on his knees and said “Do you want to play a game?” The kid frowned and said “What game?” You have to bring me a glass of water without letting anyone knowing about it and if you win you can get this.” He pointed at his belt with a shiny buckle. “Why would I need that” kid asked in astonishment. You can tie your stick with it and you can also hold some other sticks in it. “This is not a stick, this is my sword” the kid replied with bit anger. The man smiled and said “it seems that you are in need of a scabbard for your mighty sword then, what do you think?"

The kid smiled and nodded his head and ran towards the hut. He quickly moves towards the woods and kept his eyes on the hut. The kid soon emerged from the hut and started running as soon as he came out some distance from the hut. The kid approached the woods and shouted “Where are you mister?” He emerged from the trees and called the kid close. He came to him and gave him a plastic bottle filled with water. He quickly took the bottle and start gulping water. He tilted his heads upward and drank all the water in the bottle. He stayed in that position once he finished the bottle and as soon as his head came level to kid’s eyes he saw a bread loaf in his hand which is extended towards him. He was stunned for a while and when tried to say something his voice just shattered due to tears. He took the bread and ate it hastily. The kid smiled watching him eat so wildly but didn't say anything. After eating the bread he smiled to the kid and wrapped his belt around kid’s waist and placed his “sword” through the belt. The kid watched the process for a while and then dragged the stick out of the belt few times just to make sure that his new scabbard is working fine. The kid smiled and nodded his head in approval of the successful completion of the deal and walked away towards the hut.
(To be continued)
Saad Anwar Blog

Saturday, 16 November 2013

بے وقت کی راگنی

راگنیاں بے وقت کی ہوں تو سننے والوں کو گراں گزرتی ہیں۔ یہ بے وقت کی راگنیاں آپ کو اکثر سنائی دیتی ہوں گی۔ جیسے وقت سے پہلے کسی بھی چیز کے بارے میں دو ٹوک اور حتمی رائے کا اعلان، کسی بھی واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے بعد "میں نے تو پہلے ہی کہا تھا" یا "مجھے تو پہلے ہی پتا تھا کہ یہ ہو گا"جیسے جملے آپ کو اکثر سننے کو ملتے ہوں گے۔ان کو بے وقت کی راگنیاں کہنے کے پیچھے مقصد یہ بتانا ہے کہ ایسے تمام فنکار جو موقع نکل جانے کے بعد اپنے تاثرات اور تجربات سے مستفید کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیسی شدید ذہنی کوفت کا باعث بنتے ہیں۔

آپ کسی امتحان یا نوکری کے انٹرویو میں ناکام ہو جائیں اور آپ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے یہ جملہ کہا جائے کہ "ارے ٹھیک سے تیاری نہیں کی تھی؟ ہمیں بتاتے بھئی ہمارے پھوپھی کے بیٹے وہیں ملازم تھے، تمہاری بات بن جاتی۔ اب کیا فائدہ! اب تو تم ویسے ہی ناکام ہو گئے ہو، ہمیں شرمندگی ہو گی بہت بھئی!"

کسی کاروبار میں نقصان اٹھانے کے بعد کوئی یہ عرض کرے تو کیا حالت ہوتی ہے "بھائی یہ کاروبار تو کامیاب ہی چور بازاری اور دھوکے سے ہوتا ہے۔ مجھے تو پہلے ہی پتا تھا آپ جیسے سیدھے سادھے بندے کے بس کا یہ کام نہیں ہے۔"
کسی بچے کو کسی تعلیمی ادارے میں داخل کروانے کے بعد سننے کو ملے "ارے یہاں کہاں داخل کروادیا؟ یہ تو آدھا سال بند رہتاہے طلبہ تنظیموں کے فسادات کی وجہ سے، باقی آدھا سال میں کبھی ٹیچر غائب تو کبھی آپ کا بچہ بیمار۔ اوپر سے فیس اتنی مہنگی ہے کہ الامان الحفیظ! فلاں جگہ کیوں نہیں کروایا؟"

ایسی بے وقت کی راگنیاں سننے سے بہتر ہے کہ اپنا حلقہءاحباب مختصر رکھیں اور مزید کوئی تنگ کرنے کی کوشش کرے تو پے درپے سوالات پوچھ کر اس کا ناطقہ بند کر دیں اور پھر بھی ایسی راگنیاں سننے کو ملیں تو اپنے ایسے ملنے والوں سے ملتے ہوئے کانوں میں روئی ٹھونس لیں یا ایسا ظاہر کریں کہ آپ اونچا سننے لگے ہیں اور آپ کو سنائی نہیں دے رہا۔ امید ہے کہ آپ کا اپنا شمار ایسی راگنیاں گانے والے فنکاروں میں نہیں ہوتا ہو گا۔

Thursday, 14 November 2013

تایا، چھوٹا لڑکا اور پُراسرارروشنی

Saad Anwar| Urdu Short Stories| Short Stories| Urdu Literature <meta name="description" content="Saad Anwar, Short Stories, Urdu"/>
میرے دادا کی وفات کے بعد میرے تایا نےسن1978ء کی شروعات میں نارتھ کراچی میں اپنا ذاتی مکان تعمیر کروانا شروع کیا۔ سن1980ءتک میرے تایا اپنے خاندان کے ساتھ اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ اس گھر میں منتقل ہوگئے۔ اس دور کا ایک واقعہ تھا جو ہم نے سب سے پہلے اپنے بڑوں سے سنا جو آج تک میرے ذہن میں نقش ہے۔ نارتھ کراچی اس دور میں کراچی سے باہر سمجھا جاتا تھا اور ایک اُجاڑ بیاباں، جھاڑیوں اور خالی میدانوں والا علاقہ تھا جہاں سے نزدیک ترین آبادی بھی تقریباَ 15 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ اس دور میں واحد چلنے والی بس بھی نارتھ کراچی سے 3 کلومیٹر دور تک آتی تھی جہاں سے میرے گھر کے افراد پیدل گھر تک آیا کرتے تھے۔راستے میں جھاڑیاں سنسان بیاباں کی طرح خالی میدان اور کسی انسان کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہوتا تھا۔

ایسی ہی ایک سنسان اور دل کو پریشان کر دینے والی تنہائی میں میرے تایا جو مقامی کالج
(DJ Science College) میں لیکچرار تھےایک شام کہیں سے ٹیوشن پڑھا کر واپس آ رہے تھے۔ بس کیونکہ اپنے آخری اسٹاپ تک کا سفر کررہی تھی اس لیے بس میں صرف میرے تایا اور ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جو کمبل اوڑھے بیٹھا تھا۔جب میرے تایا اپنے گھر سے تین کلومیٹر دور آخری اسٹاپ پر اترے تو شام کا جھٹپٹا سا تھا اور مغرب ہونے والی تھی۔ تایا پیدل گھر کی طرف روانہ ہوئے تو وہ بچہ بھی ان کے ساتھ ہی اتر گیا اور ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ میرے تایا نے ازراہ شفقت اس بچے سے پوچھا کہ بیٹا کہاں جاؤ گے تو اس بچے نے ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کیا۔ تایا نے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھا تو ان کے گھر کی مخالف سمت میں بہت دور ایک لالٹین سی جلتی دکھائی دی اس وقت تک وہاں بجلی اور گیس جیسی چیزوں کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ میرے تایا نے سوچا کہ ایک چھوٹا سا لڑکا ہے اس کو چھوڑ آتا ہوں ایسا نا ہو کہ کوئی جانور وغیرہ اسے تنگ کرے۔ آبادی نا ہونے کی وجہ سے وہاں اکثر جنگلی جانور وغیرہ پائے جاتے تھے.

میرے تایا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے چھوڑنے کے لیے اس کی بتائی ہوئی سمت چلنے لگے۔جیسے جیسے میرے تایا اس سمت بڑھنے لگے انہیں سردی لگنا شروع ہو گئی اور ان کے مطابق کچھ دیر چلنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ دُور دِکھنے والی روشنی قریب ہونے کی بجائے اتنے ہی فاصلے پر دکھ رہی ہے۔ میرے تایا نے لڑکے سے پوچھا کہ بیٹا اور کتنی دور ہے تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر ہاتھ کا اشارہ اس روشنی کی طرف کر دیا۔ میرے تایا نے تھوڑی دور مزید چلنے کے بعد جب غور کیا تو انہیں لگا کہ لڑکے کے جسم پر لپٹا ہوا کمبل، کمبل نہیں ہے بلکہ ریچھ کی طرح کے بال ہیں۔ یہ محسوس کرتے ہی میرے  تایا شدید خوفزدہ ہو گئے اور لڑکےکا ہاتھ چھوڑنے کی کوشش کی مگر اپنا ہاتھ چھڑا نا سکے۔ جب میرے تایا نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ لڑکا جو قد میں ان سےکئی فُٹ چھوٹا تھا اس کا قد بڑھنے لگا ہے اور ہاتھ پر اس کی گرفت میں طاقت اور سختی واضح طور سے محسوس کی جاسکتی ہے تو میرے تایا نے جتنی بھی قرآنی آیات انہیں یاد تھی ان کی تلاوت شروع کی اور اپنا ہاتھ چھڑوانے کے لیے زور لگانے لگے۔ جیسے ہی انہوں نے زور آزمائی شروع کی تو انہوں نے واضح طورسے محسوس کیا کہ وہ جسے کمبل سمجھ رہے تھے واقعی بال ہیں اورخار پشت چوہے کی طرح وہ بال کھڑے ہو گئے ہیں۔ میرے تایا نے آیۃالکرسی کا ورد کرتے ہوئے زور لگایا تو ان کا ہاتھ اس لڑکے کی گرفت سے نکل گیا اور میرے تایا نے بغیر سوچے سمجھے اپنے گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ دوڑ لگاتے ہوئے کئی دفعہ وہ لالٹین نما روشنی کبھی دائیں سمت اور کبھی بائیں سمت دکھائی دی لیکن وہ آیۃالکرسی کا ورد کرتے ہوئے دوڑتے رہے ۔ کافی دیر تک بھاگنے کے بعد جب ان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ رُکے تو انہیں احساس ہوا کہ وہ دوبارہ آخری بس اسٹاپ تک پہنچ گئے ہیں۔ وہاں سے گھر تک کا سفر کرنے کی ان کی ہمت نہیں تھی لیکن مرتے کیا نا کرتے کے مصداق وہ چل پڑے اور پورا راستہ آیۃالکرسی کا ورد کرتے رہے  لیکن اس بار انہیں وہ لالٹین نما روشنی اور وہ ریچھ جیسا لڑکا کہیں بھی نا دکھا اور گھر پہنچنے کے بعد وہ کئی دن بخار کا شکار رہے۔

یہ واقعہ ہماری والدہ نے ہمیں کئی بار سنایا اور میں ہر بار اس واقعہ کی شدت، اس علاقے کی تنہائی، ویرانی اور سنسان ہونے کا سوچتا ہوں اور ایک نوجوان شخص کو اس سنسان ویران جھاڑیوں والے علاقے میں دوڑتا محسوس کرتا ہو تو آج بھی اُتنا ہی شدید خوفزدہ ہوجاتا ہوں جتنا بچپن میں اس واقعہ کو پہلی دفعہ سننے کے بعد ہوا تھا۔ 

کہانی

<meta name="description" content="Story, Short Story, Urdu Short Stories, کہانی، اردو">
کہانی کا آغاز کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے اور ایک بار کہانی شروع ہو جائے تو اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچنے سے روکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی فطرت میں ہی ادھوری ہوتی ہیں۔ جن کا آغاز بھی بہت دیر سے ہوتا ہےاور جو بڑھتی بھی بہت دیر سے ہیں اور انجام ہوتا تو ہے مگر بہت دیر سے۔ ایسی کہانیاں جنم کہانیاں ہوتی ہیں جو ہر دور اور ہر زمانے میں مختلف ہوتی ہیں اور روپ بدلتی رہتی ہیں۔یہ کہانیاں ہر دور میں ایک نئے اور اچھوتے انداز سے سامنے آتی ہیں مگر ان کا اختتام دیکھنے سے پہلے ہی وہ دور، وہ زمانہ ،اس دور کے لوگ، اور وہ وقت ختم ہو جاتا ہےاور کہانی پھر کسی نئے بھیس میں پھر کسی نئے روپ میں نئے لوگوں کے سامنے نئے دور میں نئے زمانے کے سامنے آجاتی ہے۔ ایسی کہانیاں ناسور کی طرح ہوتی ہیں جو خود تو کبھی ختم نہیں ہوتا مگر اپنے میزبان دور، زمانے، اور لوگوں کو ضرور ختم کر دیتا ہے۔ ایسی کہانیوں کا پھر کیا کیا جائے؟ انہیں کون ان کے انجام تک پہنچائے؟ لیکن جیسے کہ قدرت  کا اصول ہے کہ جو چیز شروع ہوتی ہے اس کا اختتام بھی ضرور ہوتا ہے ایسی کہانیاں بھی کئی دور، کئی لوگ اور کئی زمانے دیکھنے کے بعد اپنے انجام کو ضرور پہنچتی ہیں۔ اب وہ انجام بھلے منطقی نا ہو منصفانہ نا ہو، دلچسپ نا ہو مگر اختتام ضرور ہوتا ہے۔ کیا آپ نے ایسی کہانیاں اپنے اردگرد دیکھی ہیں؟