Showing posts with label Ramadan. Show all posts
Showing posts with label Ramadan. Show all posts

Saturday, 13 June 2015

رمضان المبارک

رمضان  کریم
سعد انوار

رمضان کا متبرک مہینہ بہت قریب ہے ۔ حسبِ معمول اس کی آمد کے ساتھ تمام مسلمانانِ عالم کی تیاریاں بھی اسی زور و شور کے ساتھ جاری ہیں۔ مگر ہوتا کچھ یوں ہے کہ رمضان المبارک جتنی تیزی سے شروع ہوتے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ رفتار کے ساتھ مکمل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ میرے ایک استادِ محترم  مولانا ابرار الحق کلیانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کی آمد پر لوگ کہتے ہیں کہ  "رمضان آگئے ،" دراصل یہ "رمضان  آ، (اور)گئے" کی طر ح ہوتے ہیں۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ مقدس مہینہ بہت تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ اس لیے اس کے مبارک ایام کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے ہر مسلمان کو بہت چاق و چوبند رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

رمضان کریم



حضرت ابوہ ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت کی گئی حدیث پاکﷺ کا مفہوم ہے کہ جب رمضان آتے ہیں تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری ، جلد 3، کتاب 31، حدیث 123 
 ابنِ عباس رضی اللہ عنہُ   سے روایت کی گئی حدیث پاک ﷺ کا مفہوم ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ  رمضان میں چلتی ہوا سے زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔(صحیح بخاری ، جلد اول، کتاب اول، حدیث 5)    ۔


ویسے تو ہمارے نبی پاک ﷺ سے زیادہ کوئی سخی نہیں ہے، لیکن رمضان کے آتے ہی ہمارے پیارے نبی ﷺ کی سخاوت اور بڑھ جایا کرتی تھی۔ رمضان میں امیر ہو یا غریب ، دونوں اپنے اردگرد دیکھیں تو کوئی نا کوئی ایسا ضرور دکھائی دے گا جو آپ کی مالی حیثیت سے تھوڑا نیچے ہو گا ۔ تو اگر ہر امیر اور غریب اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نا کچھ خدمت ایسے لوگوں کی سر انجام دے تو اللہ کی رحمت سے کامل امید ہے کہ اس کی جزا بہت عمدہ   ملے گی۔

Sunday, 20 July 2014

رمضان المبارک

تقریباََ دو مہینوں کے وقفے کے بعد دوبارہ کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو رمضان کا اکیسواں روزہ ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان نہایت تیز رفتاری سے گزررہا ہے اور کچھ ہی دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان بہت ساری رحمتیں اور برکتیں اپنے دامن میں سمیٹ کر لایا ۔ ہمت والوں نے خوب محنت اور لگن سے اس مہینے میں اپنے حصے کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹیں۔ دوسری جانب ہمیں اسلامی معاشروں میں موجود بےحسی کا شدید مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔

اس مہینے کے آغاز سے ہی مظلوم فلسطینی عوام پر اسرائیل کی جارحانہ اور بے رحمانہ حملوں معصوم ومظلوم عورتوں اور بچوں کی شہادت کے کئی واقعات ہوئے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباَ چار سو (400) افراد اسرائیل کی اس جارحیت کا شکار بن چکے ہیں۔ مسلم ممالک، خاص طور سے عرب ممالک کی بے حسی بھی قابلِ دید ہے۔ ایک جانب سعودی عرب، مصر، کویت، اور اردن کی جانب سے کوئی ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا تو دوسری جانب پاکستان، ایران اور ترکی جیسے مضبوط دفاعی قوت رکھنے والے ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے کوئی شدید احتجاجی ردعمل دکھائی و سنائی نہیں دیا۔

پاکستان کے عوام حسبِ معمول رمضان شروع ہوتے ہی عید کی تیاریوں میں مگن ہو گئے۔ کہیں افطار پروگرام بن رہے ہیں تو کہیں سحری کی دعوت کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ حسبِ معمول میڈیا سے چلنے والے مختلف پروگراموں میں ہر ایک پروگرام ،اس عظیم مہینے کو بیچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ کہیں آم کھلائے جا رہے ہیں، کہیں غریبوں کے گھروں میں گھس کر ان کی بے بسی و بے کسی کو بیچا جا رہا ہے  اور کہیں غریبوں کی مدد کرنے کے نام پر ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔جو ذکر ہونا چاہیئے وہ سرے سے مفقود ہے، اکا دکا خبریں اسرائیل کی جارحیت اور فلسطینی مسلمانوں کے عزم و ہمت  کی چلے تو چلے ورنہ ایک طوفانِ بدتمیزی ہے جو سحر سے افطار تک اسلام کے اس مقدس مہینے کے نام پر چل رہا ہے۔

یہ سب لکھنے کا مقصد دل کی بھڑاس نکالنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیونکہ میں خود بھی اسی رویے کا شکار ہوں۔ صبح آفس ، افطار گھر میں اور پھر فیس بک اور ٹوئیٹر پر رات ہو جاتی ہے۔ معمول کی نمازیں اور تلاوت کو ہی رمضان کا اصل مقصد سمجھ بیٹھا ہوں۔ کوئی کوشش کردار، عمل، اور بے مقصد زندگی کو ٹھیک کرنے کے لیے نہیں کر سکا اور پورے بیس روزے گزر گئے۔

میری دعا ہے کہ ہم سب مسلمان اپنے رویے، عادت، اور نیت میں بھی مسلمان ہو جائیں اور تمام مسلمان ممالک ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک جسد کی طرح ہو سکیں۔ ایک کی تکلیف دوسرے کی تکلیف اور ایک کی راحت دوسرے کی راحت بن سکے۔ ہماری ضرورتیں اور وسائل مجتمع کی جائیں تو ہم باآسانی اپنی معاشی و سماجی مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔پیچھے رہ جائیں گی دنیاوی علوم اورایک مہذب معاشرے کی تشکیل تو وہ اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے ممالک اور ان کے رہن سہن ، عادات ومزاج کے مطابق کوششیں کرنی ہوں گی۔ یہ کوشش نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی ہونے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔اس کی شروعات  ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے کر سکتے ہیں۔