جیو اور اے آر وائی کی جنگ میں ہمارا ضمیر اور قومی احساس تباہ ہور ہا ہے۔ لیکن
کسی کو بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ دونوں طرف سے الزامات کی بوچھاڑ ہے اور دونوں طرف
علماء کرام اپنا وزن ڈال کر پلڑا بھاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نہایت
احترام کے ساتھ عرض ہے کہ یہ صرف چندعلماء کرام کا وطیرہ نہیں ہے۔ پوری قوم من جملہ
میڈیا اداروں کے، اسی رویے پر عمل پیرا ہے۔ ڈان، ایکسپریس، جنگ، نوائے وقت، دنیا، اور
دی نیوز کونسا ادارہ ایسا ہے جو اپنے مخالفین کی بھد اڑانے کے لیے بھاڑے کے ٹٹوؤں کو
اپنے ادارے میں شامل نہیں کرتا۔ ہر ادارے کے اپنے پسندیدہ نظریات وافکار ہیں اور وہ
دن رات اس کے پرچار میں اور اپنے مخالفین کا تیا پانچہ کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ یہ پہلی
دفعہ ہوا کہ اپنا ہی ہتھیار خود اپنے خلاف استعمال ہوگیا ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں۔
ایک طرف سے آزادیِ اظہار رائے پر ضرب لگانے کے دعوے کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب سے
پیشہ ورانہ ذمہ داری میں غفلت برتنے کا الزام کا ورد کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ بہتی گنگا
میں سب نے ہاتھ دھوئے ہیں۔ نا جیو اتنا سیدھا ہے نا اے آر وائی، ونوں کو اپنے مفادات
عزیز ہیں جن میں سب سے اول درجہ پیسے کا ہے۔ رمضان کی آمد آمد ہے، دونوں ادارے اسلام
اور رمضان کے نام پر اپنے صارفین کو عامر لیاقت اور شائستہ واحدی جیسے "مبلغین
اسلام" کے ذریعے اسلامی تعلیمات سے روشناس کروائیں گے۔ بکےگا تو صرف ضمیر، موت
ہو گی توفرض شناسی کی، اور بے وقوف بنے گی تو یہ بیس کروڑ عوام جو سحروافطار کے دوران
انہی لوگوں کے ارشادات عقیدت مندی سے دیکھ رہے ہوں گے۔ جو بکتا ہے بیچ دو، جو نہیں
بکتا اسے پھینک دو۔ جہاں سے ملتا ہے لے لو۔ کہاں، کیوں اور کیسے کے سوالات چھوڑ دو۔
Hello my name is Saad Anwar and I am a writer & poet who loves to read books. Urdu novels, stories, and poetry are my passion and I envy English literature. This Urdu blog is all about my personal experiences, thoughts, stories, and Urdu writings. The language of the blog will mainly be Urdu. However, I will try to post things in English as well, just to practice my skills.
Showing posts with label Urdu Blogs. Show all posts
Showing posts with label Urdu Blogs. Show all posts
Sunday, 18 May 2014
Monday, 12 May 2014
لا یعنی پوسٹ
یہ ایک لایعنی پوسٹ ہے۔ اگر آپ اس میں سے
کوئی معنی یا مطلب نکالتے ہوئے پائے گئے تو اس فعل کو آپ کی نادانی سمجھا جائے گا ۔ ایسی پوسٹ عموماَ بھرتی کی
ہوتی ہیں جن سے بلاگ کا پیٹ بھرا جاتا ہے اور تاریخوں کا ہیر پھیر کیا جاتا ہے۔ ویسے تو آج (یا کل)کی تاریخ میں بہت کچھ
ہوا ہے ، جیسے کے لاہوراور اسلام آباد میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی جلسے، ایک سنسنی خیز آئی پی ایل کا میچ
اور ہم دوستوں کی ایک ٹیپ بال کرکٹ سیریز، لیکن یہ اتوار کو وقوع پذیر ہوا ہے اور جب میں یہ لایعنی و بے معنی پوسٹ لکھ رہا
ہوں تو پیر کی صبح ہونے میں کچھ ہی گھنٹے باقی ہیں۔ کیونکہ اب مجھے ایک بے انتہا چبھتے
ہوئے سوال پوچھتی "پیر" کا
سامنا کرنا ہے اس لیے میں اس لایعنی و بے معنی پوسٹ کا خاتمہ کرتا ہو ں اور امید
کرتا ہوں کہ آپ کو میری طرح "پیر" چبھتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی ہو گی۔
Labels:
Blogs,
Pakistan,
saad anwar,
Urdu,
Urdu Blogs,
Urdu News
Subscribe to:
Posts (Atom)