Showing posts with label time. Show all posts
Showing posts with label time. Show all posts

Sunday, 24 November 2013

وقت

وقت کی قدر و قیمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ اس کی کمی کا شکار ہوں۔ یہ وہ وقت نہیں ہے جس کی کمی کا آئے دن شکوہ سننا پڑتا ہے۔ اس وقت سے مراد زندگی ہے۔ دراصل زندگی کیا ہے؟ دیکھا جائے تو زندگی سانسوں کی گنتی ہے جو الٹی چل رہی ہے اور جتنی سانسیں باقی ہیں اتنا وقت باقی ہے۔ کچھ کرنے کے لیے، کچھ پانے کے لیے، کسی خوشی سے لطف اندوز ہونے کے لیے، کوئی قابلِ قدر کام سرانجام دینے کے لیے، یا صرف سردیوں کی دھوپ میں بے مصرف بیٹھ کر خوشی کشید کرنے کے لیے۔ تو زندگی خوشی اور سکون کی تلاش کا نام ہے؟َ یہ جواب بھی شائد ناکافی ہو۔

اگرایسے ہی چلتے جائیں اس سوال کا جواب تلاش کیے بغیر تو زندگی سے شکائتیں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ کبھی خود سے، کبھی اپنے آس پاس کے لوگوں سے، کبھی اپنے پیشے کے حوالے سے، حتیٰ کہ کبھی کبھی سڑک پر چلنے والے اجنبیوں سےبھی لڑنے کا دل چاہے گا۔ یہ طے ہو جائے کہ کیا کام یا عمل کرتے ہوئے آپ کو خوشی محسوس ہوتی ہے تو مشکل حالات میں بھی آپ سر بلند اور مطمئن رہ سکتے ہیں کیوں کہ وقت کی ایک خوبی یہ ہے کہ اچھا ہو یا برا گزرتا ضرور ہےاور اس کے گزرنے کے ساتھ ہی آپ کو نئے دور اور نئے وقت کے مواقع میسر ہوتے ہیں۔

لیکن ہر دور میں خوش اور مطمئن کیسے رہا جائے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے اور اس کا جواب شائد اِتنامشکل نہیں ہے۔ اس کا جواب آپ کی ذات کے اندر ہی چھپا ہوا ہے۔ اگر ایسے کاموں کی فہرست بنائی جائے جس سے آپ کو خوشی اور سکون ملتا ہے تو آپ دیکھیں گے اس میں نہایت چھوٹے چھوٹے عمل ہیں جو آپ کو خوش اور مطمئن کرنے کا باعث بنتے ہیں اور آپ انہیں شُمار ہی نہیں کرتے۔ ایسی ہی فہرست میں نے جب بنائی تو مجھے محسوس ہوا کہ زندگی کی بے شُمار اور ان گنت کام ایسے ہیں جن سے ہم خوشیاں اور سکون کشید کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے لیے رات کے وقت ایک آدھ میل پیدل چلنا، دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانا، کسی کتاب یا کہانی کا مطالعہ کرنا، کوئی اچھی سی فلم دیکھنا، یا اپنے گھر والوں سے عام سی گفتگو کرنا اور اس جیسے بے شمار چھوٹے چھوٹے کام آپ کی خوشی کا باعث ہوں اور آپ اس کا احساس کیے بغیر ہی اسے سر انجام دے رہے ہوں۔ اگر آپ اس کا اعتراف کریں گے یا اس کام کو پوری طرح سے محسوس کریں گے جو آپ کی خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے تو آپ پر اس کام یا عمل کی صحیح خوبصورتی نمایاں ہو گی اورپھر وہ کام یا عمل آپ کے لیے خوشی اور سکون کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ باعثِ شکر بھی بن جائے گا۔ 

ہر شخص کی فہرست مختلف ہو گی اور ہونی بھی چاہیے کیوں کہ زندگی اسی تنوع اور انفرادیت کا نام ہے۔ اس لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کیا چیز اور کس مقصد کا حصول آپ کی خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے اور پھر اس کے لیے اپنی مصروف زندگی میں سے وقت نکالیے اور روزانہ کی بنیادوں پر وہ عمل کرنے کی کوشش کریں جس سے آپ کو خوشی اور سکون ملتا ہے۔


زندگی کے معمولات تو چلتے ہی رہیں گے۔ وقت پر دفتر جانا ہے، وقت پر کھانا کھانا ہے، ہر کسی رشتے کو اس کا مناسب وقت دینا ہے، مگر خود کے لیے بھی وقت نکالیں اور خوش رہنے کی کوشش کریں کیوں کہ زندگی تمام تر مشکلات، آزمائشوں، راحت و سکون کے ساتھ گزر ہی جانی ہے۔ تو کیوں نا زندگی کو ایسے گزارا جائے کہ جو کام موجودہ حالات میں ہو سکتا ہو وہ تو ضرور ہی کر لیا جائے تاکہ ذہنی پریشانی اور مصائب کی شدت تھوڑی سی کم ہو سکے۔

Thursday, 7 November 2013

زمانے کے انداز بدلے گئے

زمانے کے انداز بدلے گئے مگر کتنے بدلے گئے؟ کیا کسی نے غور کیا کہ لوگ کیسے تبدیل ہوتے ہیں؟ ان کے رویے کس بات کی نشاندہی کرتے ہیں؟ کسی بھی وقت، دور یا عشرے کے لوگوں کے معمولات کیا ہیں اور وہ کسی بات یا واقعے پر ان کا ردعمل کیسا ہوتا ہے اور کیا وجوہات اس رد عمل کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ کسی زمانے میں چوری ڈکیتی اور اغوا کے واقعات لوگوں کے ہوش و حواس اڑا دینے کے لیے کافی ہوتے تھے اور اب قتل جیسے ہولناک اور دردناک واقعات روزانہ درجنوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور لوگ اپنی زندگی کے معمولات میں ایسے مگن رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔

 یہ عمومی بےحسی اور دلوں کی سختی ہم میں کہاں سے آگئی ہے؟ ہم کب اور کیسے لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں یہ بات نہایت ہی افسوسناک ہے کہ ہمارے رویے انسانی سے زیادہ حسابی ہو گئے ہیں۔ کسی بھی شخص یا انسان کی کب کیوں کیسے مدد کرنی ہے؟ کب کیوں کیسے اس کی بات سننی ہے اور کس حد تک کسی کو برداشت کرنا ہے۔ ان سب باتوں کا تعین ہم اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے مطابق کرنے لگے ہیں۔یہ سب ہمیشہ سے تو ایسے نہیں تھا۔کچھ تبدیل ہوا ہے ہمارے ساتھ۔ مادی اور معاشی دوڑ کو ہم نے اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ انسانی جذبات اور احساسات بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔


یہ سب تبدیل کیسے ہوگا؟ اور کون کیسے اس معاملے کو سلجھا سکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم شائد یہ تیز رفتاری اور کشمکش ہمارے اپنے اندر ہے جس کو خود ہمارے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ٹھیک کر سکتا۔اس کے لیے ہمیں خود اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا پڑے گا اور اپنے ساتھ بیٹھنا پڑے گا اور اپنی ترجیحات کو دوبارہ سے دُہرا کر ٹھیک کرنا پڑے گا۔