Showing posts with label Ramzan. Show all posts
Showing posts with label Ramzan. Show all posts

Sunday, 21 June 2015

کراچی، گرمی، بارش اور استغفار

ہائے رے گرمی 
سعد انوار


کراچی کی آب و ہوا  کو درسی کتابوں اور بزرگوں کی زبانی ہمیشہ سے معتدل پڑھتے اور سنتے آئے ہیں۔ سمندر کے کنارے  آباد ہونے کے سبب ٹھنڈی ہوائیں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں۔ لیکن کل سے اخباری خبروں کے مطابق وہ بھی بند ہیں جس کی وجہ سے درجہ حرارت اس قدر بڑھ گیا ہے کہ رات میں بھی حبس اور گرمی سے جان ضیق میں مبتلا ہے۔ ایسے موسم نے ہمیں لاہور کی گرمیاں یاد دلا دیں، جہاں رات میں بھی اتنی شدید گرمی اور حبس ہوتا ہے جتنا کہ عین دن کے وقت، بس سورج کے چھپ جانے سے تپش میں تھوڑی کمی آجاتی ہے۔رمضان کی آمد کے ساتھ ہی گرمی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ کل بروز ہفتہ  کراچی میں درجہء حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جو پچھلے پندرہ سالوں میں ایک ریکارڈ ہے۔یو ں تو گرمیوں سے ہمیں  خدا  واسطے کا بیر ہے، مگر پچھلے کچھ سالوں سے گرمیاں کچھ زیادہ ہی تنگ کر رہی ہے۔ یوں تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ، لیکن پچھلے دو سالوں سے بارش کی کمی بھی گرمیوں کی شدت میں اضافے کا باعث ہے۔

پچھلے  دو سالوں سے بارشوں کی کمی کی بدولت کراچی پہلے ہی  گناہ گاروں کا شہر  کہلایا جا رہا تھا، اس بار گرمیوں کی شدت نے جیسے اس الزام کو سچ بنا دیا ہے۔ ویسے یہ بات بھی قابلِ فکر ہے کہ اس سال کئی دفعہ نمازِ استسقاء پڑھی  جا چکی ہے اور نمازِ جمعہ کے اجتماعات  میں بھی توبہ استغفار کے ساتھ بارش کے لیے دعائیں مانگی جا رہی ہیں، لیکن اب تک اللہ تبارک تعالیٰ نے  بارش کا حکم نہیں دیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم جیسے گناہگاروں کی خطاؤں کو معاف فرما دیں اور اپنی شانِ توابی اور کریمی سے ہم گناہگاروں کو رحمت و برکت والی بارشیں عطا فرمائیں۔ آمین۔

Saturday, 13 June 2015

رمضان المبارک

رمضان  کریم
سعد انوار

رمضان کا متبرک مہینہ بہت قریب ہے ۔ حسبِ معمول اس کی آمد کے ساتھ تمام مسلمانانِ عالم کی تیاریاں بھی اسی زور و شور کے ساتھ جاری ہیں۔ مگر ہوتا کچھ یوں ہے کہ رمضان المبارک جتنی تیزی سے شروع ہوتے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ رفتار کے ساتھ مکمل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ میرے ایک استادِ محترم  مولانا ابرار الحق کلیانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کی آمد پر لوگ کہتے ہیں کہ  "رمضان آگئے ،" دراصل یہ "رمضان  آ، (اور)گئے" کی طر ح ہوتے ہیں۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ مقدس مہینہ بہت تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ اس لیے اس کے مبارک ایام کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے ہر مسلمان کو بہت چاق و چوبند رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

رمضان کریم



حضرت ابوہ ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت کی گئی حدیث پاکﷺ کا مفہوم ہے کہ جب رمضان آتے ہیں تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری ، جلد 3، کتاب 31، حدیث 123 
 ابنِ عباس رضی اللہ عنہُ   سے روایت کی گئی حدیث پاک ﷺ کا مفہوم ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ  رمضان میں چلتی ہوا سے زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔(صحیح بخاری ، جلد اول، کتاب اول، حدیث 5)    ۔


ویسے تو ہمارے نبی پاک ﷺ سے زیادہ کوئی سخی نہیں ہے، لیکن رمضان کے آتے ہی ہمارے پیارے نبی ﷺ کی سخاوت اور بڑھ جایا کرتی تھی۔ رمضان میں امیر ہو یا غریب ، دونوں اپنے اردگرد دیکھیں تو کوئی نا کوئی ایسا ضرور دکھائی دے گا جو آپ کی مالی حیثیت سے تھوڑا نیچے ہو گا ۔ تو اگر ہر امیر اور غریب اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نا کچھ خدمت ایسے لوگوں کی سر انجام دے تو اللہ کی رحمت سے کامل امید ہے کہ اس کی جزا بہت عمدہ   ملے گی۔