Showing posts with label Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Pakistan. Show all posts

Thursday, 11 June 2015

ایک چھوٹی سی لایعنی پوسٹ جو ایک خوشگوار یاد میں تبدیل ہوگئی

پہلے سوشل میڈیا پر کچھ لکھا، پھر اسے مٹا دیا، پھر تیزی سے بدلتے اور گزرتے ہوئے ادوار پر کچھ لکھا، پھر اسے بھی مٹا دیا۔ پھر بدلتی ہوئی معاشی، معاشرتی ، اور سماجی روایات پر لکھااور اسے بھی مٹا دیا۔ یہ چوتھی دفعہ کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر آپ اسے پڑھ رہے ہیں تو یہ بات یقینی ہے کہ میں نے اسے نہیں مٹایا۔ بہت حیران کن امر ہے کہ تین بہت ہی اچھے موضوعات پر لکھے ہوئے معلوماتی الفاظ مٹا کر میں یہ بے معنی اور لایعنی حروف جوڑ رہا ہوں۔  لیکن بعض دفعہ ایسا چلتا ہے، بلکہ ایسا کئی دفعہ چلتا ہے۔

اتنا لکھنے کے بعد مجھے لگا کہ لفظ  "دفعہ" کی گردان بہت ہوگئی ہے، پھر مجھے شک ہو اکہ یہ لفظ   ایسے (دفعہ)لکھا جاتا ہے کہ ایسے(دفع)، ایک صورت میں اس کے معنی کچھ بنتے ہیں اور دوسری صورت میں کچھ اور، پھر خیال آیا کہ جب اتنی ساری بکواس لکھ چکا ہوں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دفعہ/دفع کیسے لکھا جاتا ہے۔مگر ذہنی رو کا کیا کیجئے کہ مجبور ہو کر اس لفظ کو لغت میں ڈھونڈنے پر مجبور ہو گیا۔
لغت میں لفظ دفع کے آگے یہ تعریف لکھی ہوئی ملی:

"عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر دفع کے ساتھ ہ بطور لاحقۂ نسبت لگائی گئی ہے اردو میں سب سے پہلے 1792ء کو "تحفۃ الاحباب" میں مستعمل ملتا ہے۔"

مجھے پوری امید ہے کہ  نئی پود کے جوانوں کو یہ پورا جملہ پڑھنے میں جو مشقت اٹھانی پڑی ہوگی، وہ انہیں شائد نصابی اردو کے کسی مضمون کی یاد دلا دے۔ یہ سطریں لکھ ہی رہا تھا کہ ذہن خود بہ خود پندرہ سال پہلے  کے دور میں واپس جانے کی کوشش کرنے لگا۔ یادوں کے دریچوں سے ایک شخصیت یو ں جھانکے لگی کہ دل بے ساختہ مجبور ہو کر انہیں یاد کرنے لگا۔ ایک مشکل لفظ کے معنی لغت میں ڈھونڈنے کی مشقت نے مجھے ہماری کالج کی کلاس کو اردو پڑھانے پر معمور ایک منحنی سے استاد  کی یاد دلادی۔ نام تو اس وقت ذہن سے محو ہو گیا ، مگر اسوقت ان کا سراپا ذہن پر کچھ اس طر ح سے چھایا ہوا ہے کہ اگر مصور ہوتا تو ان کانہایت ہی شاندار پورٹریٹ بنا سکتا تھا۔ 

دھان پان سے سیاہ شیروانی اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس   ،کالج کے ساتھ ملحقہ سڑک کےایک جانب چلتے ہوئے ، اپنی ہی لکھی ہوئی کوئی غزل ، کبھی تحت اللفظ اور کبھی ترنم سے گنگناتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ ایسے شفیق اور کریم النفس کہ راہ چلتے کوئی طالبِ علم سوال پوچھ لیتا تو جب تک اس کی تشفی نا کردیتے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ بعض نالائق طلباء ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر باری باری کسی لڑکے کو راہ چلتے سوالات پوچھنے کے امر پر معمور کرتے  تاکہ استادِ محترم کلاس میں نا پہنچ پائیں۔  لیکن استاد ِ محترم نے کبھی کسی لڑکے کو مایوس نہیں کیا، ہر سوال کا جواب ایسے دیتے جیسے اس لڑکے کی زندگی و موت کا سوال ہو۔  ادھر بعض ہم جیسے طلباء بھی گویا اس  امر پر قدرت کی جانب سے معمور کیے گئے تھے کہ کالج میں داخل ہوتے ہی ان کے آگے پیچھے کچھ اس طرح غول درغول کا مجمع لگا ئیں کہ وہ ایسے لفنگے اور بے ادب طلباء کے اوچھے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہ سکیں۔ خود ہی کہا کرتے تھے "میا ں ! ہم جانتے ہیں، کہ شریر وں کا کیا مقصد ہے۔ مگر پھر سوچتے ہیں کہ شائد اسی بہانے کوئی بات  سیکھ جائیں ۔" اب کوئی بتائے کہ ایسے شریف النفس انسان کو کون کیا کہہ سکتا ہے۔

اردو کے بعض قدیمی شعراء کا کلام انہی کے منہ سے سنا ، کلا س میں شاذونادر ہی کبھی کورس کی کتاب کو ہاتھ لگایا ہو، مگر ایسے غضب کی یاداشت کے مالک کہ ہزاروں اشعار یاد تھے۔ میر تقی میر کے بہت بڑے معتقد تھے، مداح اس لیے نہیں لکھا کہ میر تقی میر کی داستان اور شاعری سناتے ہوئے جس طرح وہ ٹھنڈی آہیں بھرا کرتے تھے وہ مداح سے زیادہ کوئی عاشق ہی کرسکتاہے۔ ان پر چچا غالب کا یہ شعر خوب صادق آتا تھا:

غالب اپناتو  یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ  ہےجو معتقدِ میر نہیں ہے

وقت گزر گیا، ہم نوکری کے جنجال میں کچھ اس طرح مبتلا ہوئے کہ کبھی پلٹنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ اب جو کبھی سوچتے ہیں تو استادِ محترم کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ جس طرح وہ ہم کیکٹس جیسے نالائق طالبِ علموں پرعلم کا مینہ برساتے تھے ، وہ ذہین اور خوش مزاج طلباء کے لیے بھی قابلِ رشک تھا۔ اللہ ہمارے تمام اساتذہ کرام کو لمبی عمر اور صحت عطا فرمائے ،بہت  خوشیاں اور سکون نصیب فرمائے، اور جو  اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!
آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ ِ رخ زیبا لے کر۔

Saturday, 8 November 2014

واہگہ اور کوٹ رادھا کشن

پچھلے کچھ دنوں میں اس ملک پر کئی ناگہانی آفات گزری ہیں۔ ان تمام واقعات میں سے دو بڑی  آفتیں کئی قیمتی جانوں کے نقصان کا باعث بنی ہیں۔ ایک واقعے میں واہگہ بارڈر پر ہونے والے خود کش دھماکے میں 61   جانوں کا نقصان ہوا۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں عورتوں اور بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے جبکہ ایک ہی خاندان کے کئی افراد بھی اس دہشت گردی کا نشانہ بنےہیں۔   دوسرے واقعے میں پنجاب کے ایک گاؤں کوٹ رادھا کشن میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے دو افراد(میاں بیوی  )کو مشتعل افرا د کے ایک گروہ نے توہین ِ مذہب کے جھوٹے الزام پر تشدد کرنے کے بعد جلتی ہوئی بھٹی میں پھینک کر زندہ جلا دیا۔  یہ دونوں افسوسناک واقعے مذہبی شدت پسندی کے زہرِ قاتل کے دو رخ ہیں ۔ پہلے واقعے میں طالبان نے اسلام کے نام پر کئی معصوم اور بے گناہ افراد کو ہلاک کیا جبکہ دوسرے واقعے میں ایک ظالم مالک نے اپنی وحشی جبلت اور ظلم وجبر کو چھپانے کے لیے جس طرح اسلام کو بدنام کیا ہے وہ حکومتِ پاکستان ، مملکت ِ پاکستان اور اس کے باسیوں پر ایک بدنما داغ ہے۔

اینٹوں کے بھٹے پر گزرنے والی دردناک زندگیوں کی روداد  اگر کسی کو جاننے کی خواہش ہے تو وہ شوکت صدیقی کے طویل ناول "جانگلوس" کا مطالعہ کرے۔ بھٹے کا مالک کس طرح اپنے ملازمین (یہاں غلام لکھنا  زیادہ بہتر ہوتا) کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے غلام مزید اذیت بھری زندگی گزارنے سے انکاری ہیں تو وہ انہیں ڈرانے دھمکانے  یا سبق سکھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے  ۔ اس میں مار پیٹ ، بھوک پیاس، ذلت و بے عزتی کے ساتھ موت جیسے دردناک انجام بھی شامل ہوتے ہیں۔ کئی برسوں بعد جب میں نے  2013 میں اس عظیم ناول کا دوبارہ مطالعہ کیا تو میں نے دل میں سوچا کہ شائد  اب ظلم اور بربریت  کا ایسا کھلا مظاہرہ پاکستان  میں نہیں ہوتا ہو گا۔ اخبارات ، ٹی وی، اور انٹرنیٹ سے مزین ہمارے جدید پاکستان میں بھٹے کے مالکان کم ازکم کسی کو غلاموں کی طرح کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے ہوں گے۔  مگر کوٹ رادھا کشن کے اس واقعے نے  میری غلط فہمی دور  کردی۔

بھٹے کے مالکان کسی بھی طرح خرکار کیمپ اور بے گار کیمپوں سے مختلف نہیں ہوتے ۔ جہاں لوگوں کو اغوا  کرنے کے بعد ان کی مرضی کے خلاف ان سے مشقت لی جاتی ہے اور بدلے میں دو وقت کی روٹی اور سال میں دو جوڑے فراہم کیے جاتے ہیں۔  طریقہ کار بھی اب تک ویسا کا ویسا ہی ہے جیسا آج سے پچاس سال پہلے کے پاکستان  میں شوکت صدیقی نے بیان کیا تھا۔ اغوا تو اب شائد نہیں کیا جاتا لیکن معاشی مشکلات کا شکار غریب لوگوں کو پہلے پہل نوکری دینے کے بہانے گھیر گھار کر ان اینٹوں کے بھٹے پر لایا جاتا ہے اور پھر "مدد" کے نام پر سودی قرضوں سے انہیں ایسا جکڑا جاتا ہے کہ وہ زندگی پھر ان زنجیروں سے آزاد نہیں ہوپاتے۔ ایک بار جب یہ قرضہ کوئی لے لے تو پھر جب تک وہ زندہ رہتا ہے اس وقت تک انہیں اینٹوں کے بھٹے سے نجات نہیں ملتی، ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ اسے سرکشی یا کسی بیماری کی صورت میں دوسرے بھٹے کے مالک کو فروخت کر دیا جاتاہے ۔  اینٹوں کے بھٹے پر ہی ان کی شادیاں ہوتی ہیں اور انہی جگہوں پر ان کی اگلی نسل جنم لیتی ہے اور پھر انہی بھٹو ں میں خاک ہو جاتی ہیں۔  اگر کوئی سرکشی دکھائے  تو اسے کوٹ رادھا کشن جیسے مظلوموں کی طرح صفحہ ء ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ یہ ظلم  پاکستا ن  میں کئی عشروں سے جاری و ساری ہے۔   

کوٹ رادھا کشن کے محنت کشوں کا قصور یہ نہیں تھا کہ وہ عیسائی تھے  یا وہ (جھوٹے الزام کے مطابق )مقدس اوراق کی توہین  کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان کا سب  سے بڑا قصور یہ تھا کہ انہوں نے اپنی اگلی نسل کو اس بھٹے کی غلامی سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔ یہ بدنصیب جوڑا بھٹے کے مالک کے کئی لاکھ روپوں کے مقروض تھے انہیں اس قرضے سے خلاصی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ، انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی اور بدقسمتی سے پکڑے گئے۔ بھٹے کے مالک نے انہیں  اور بھٹے پر موجود ان جیسے کئی دوسرے غلاموں کو سبق سکھانے کے لیےعبرت کا نمونہ بنانے کی ٹھانی۔ قریب موجود مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے توہینِ مذہب کا  فتویٰ  اس وقت تک نشر ہوتا رہا جب تک کوٹ رادھا کشن کے "غیور" مسلمانوں نے ایک مشتعل ہجوم کی صورت اختیار نہیں کر لی۔ اس مشتعل ہجوم نے دونوں بدنصیبوں پر تشد د کیا اور پھر ان کے ادھ موئے جسموں کو اسی بھٹی میں جلا کر خاک کر دیا جہاں وہ اپنی غلامی کے ہاتھوں پہلے ہی کئی سالوں سے جل رہے تھے۔  

ان مظلوموں کا قصور  یہ نہیں تھا کہ وہ عیسائی تھے، نا ہی انہوں نے توہین ِ مذہب کا ارتکاب کیا   جیسا کہ ان پرجھوٹا الزام لگایا گیا ۔ ان کا قصور صرف ایک تھا کہ وہ ایسے معاشرے میں زندہ تھے جہاں عزت کا پیمانہ صرف معاشی لکیروں کو ماپتا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی جگہ اگر کوئی مسلمان جوڑا بھی ہوتا  تو اس کا بھی یہی حشر ہوتا  ، فرق صرف اتنا ہوتا کہ اس صورت میں شائد کسی دوسرے راستے کا انتخاب کیا جاتا۔ کوئی پنچائیت، کوئی جرگہ، کوئی گاؤں کا سردار یا  وڈیرہ انہیں ان دیکھے  جرم کا مجرم ثابت کرتا اور ہم کسی مختلف سانحے کی خبریں اخباروں اور ٹی وی میں  پڑھتے  اور دیکھتے۔  میں مزید کیا لکھوں کہ میرا دل زمین الٹائے جانے کے خوف سے کانپتا ہے اور میری روح ایسے معاشرے میں جینے سے بیزار ہوچکی ہےجہاں انسانی زندگی کسی بھی شخص کی طرف سے لگائے گئے اندھے الزاموں پر پلک جھپکتے  میں سانسوں سے محروم ہو جاتی ہے۔  اب بھی ہم اخبار ، ٹی وی، انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں تو  ایک دانشور وں کا طبقہ اپنے دل کی بھڑاس توہین رسالت اور توہین ِ مذہب کے قانونی  سقم پر موشگافیاں کر کے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ ایک اور طبقہ اسے پاکستانی معاشرے میں موجود مذہبی انتہا پسندی  کے رنگ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں شائد صحیح ہوں، مگر جو بنیادی وجوہات ہے ان کی طرف کسی نے کوئی اشارہ  نہیں کیا اور نا ہی اسے سدھارنے یا تبدیل کرنے پر کوئی مشورہ میری نظروں سے گزرا ہے۔ مظلوموں کے لواحقین کو ضرور زرعی اراضی اور پچاس لاکھ روپے دیے گئے ہیں مگر یہ نہیں سوچا گیا کہ مستقبل کے کسی مظلوم کو  ہم کیسے اس ظلم کا نشانہ بنانے سے روک سکتے ہیں۔ کیا پنجاب اور سندھ میں ایسےکئی خرکار اور بے گار کیمپوں سے بھی بدتر بھٹے اور کھیت موجود نہیں ہیں؟  اگر ہیں تو کیا ہم نے ان کے لیے کوئی قوانین وضع کیے ہیں؟ اور اگر قوانین موجو د ہیں  (جو کہ بیشک موجود  ہوں گے) تو ا ن پر عمل درآمد کرنے کی ذمہ داری کس مائی کے لعل کی ہے؟ اور وہ مائی کا لعل ایسے واقعات کے دوران کہاں سو رہا ہوتا ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں موجود لوگوں میں اتنی تعلیم، عزتِ نفس اور اخلاقی جرات پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والے ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کی کوئی کوشش کر سکیں؟  اور ایسے مواقع پر قانون کو اپنا راستا خود بنانے پر ترجیح دیں؟اگر ان سب سوالوں کا جواب نہیں ہے تو پھر  ہمیں اپنے ہر سال کے بجٹ میں ایسے کئی واقعات کے لیے کروڑوں روپے مختص کر نے پڑیں گے۔ کیونکہ یہ واقعات  وزراءاعلیٰ کے نوٹس لینے، اعلیٰ افسران کو معطل کرنے، ملزمان کو گرفتار کرنے، اور ان پر مقدمہ درج کرا دینے اور کچھ مہینوں بعد ان سب کو طاقِ نسیاں پر رکھ دینے سے بالکل بھی کم نہیں ہوں گے۔

میرا خیال تھا کہ پاکستان نے ترقی کی بہت سے منازل طے کی ہیں مگر یہ میری خام خیالی ہے ۔ صرف سڑکوں ، عمارتوں، پلوں اور چمکتی دمکتی سواریوں کا نام تو پاکستان نہیں ہے۔ یہ تو ایک قوم کا سوال ۔ ایک ایسی قوم کا جس کا ایک بہت بڑا حصہ انسانی فطرت کی سب سے اہم ضرورت سے محروم ہے۔ یہ ضرورت  روٹی، کپڑا اور مکان نہیں ہے۔ یہ بجلی ، گیس اور پانی بھی نہیں ہے، یہ کسی صورت روزگار اور معیشت کے آسان مواقع بھی نہیں ہے یہ دولفظوں پر مشتمل ایک ایسا احساس ہے جس سے ہم سب محروم کیے جاتے ہیں ۔ یہ  عزتِ نفس ہے!  عزت نفس سے لیس انسان باقی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے جذبے سے بھرپور ہو گا۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں انسان کی تکریم  کا سب سے بڑا پیمانہ اس کی معاشی  حالت ہے۔  

میں نے توہین ِ  مذہب اور توہینِ رسالت کے قوانین کا مطالعہ نہیں کیا اور نا ہی میں ان میں موجود کسی سقم کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہوں۔ لیکن بہ حیثیت انسان جب میں دیکھتا ہوں کہ  کیسے ہمارے معاشرے میں موجود لوگ ایک قانون کے موجود ہوتے ہوئے کسی بھی معصوم اور بے گناہ انسان  کی جان سے کھیل جاتے ہیں تو میں ہر ذی شعور انسان کی طرح  سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ یقیناَ  اس قانون کےعلاوہ بھی کئی دوسری وجوہات ہیں جو ہمیں اسفل سافلین بنا دیتی ہیں ۔  وہ وجوہات کیا  ہیں یہ تو کسی گہرے نفسیاتی و معاشرتی مطالعے  کا متقاضی ہے ۔مگر ان سب کے علاوہ جو بات سب سے واضح ، یقینی  اور صاف ہے وہ ہماری معاشرتی تقسیم ہے۔ ہمارا معاشرہ دو  واضح طبقات میں بٹ گیا ہے۔ امیر وطاقتور اور غریب وکمزور۔دونوں طبقات میں جس کی جتنی بساط ہے وہ اس حیثیت میں ملکی قوانین  کا مذاق اڑاتا ہے۔  اگر میں ٹریفک سگنل توڑ نے پر بچ نکلنے کی اہلیت رکھتا ہوں تو میں ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی ضرور کروں گا۔ اگر میں ٹیکس چوری کی سزا سے بچنے کے تمام راستے جانتا ہوں تو میں ٹیکس ضرور چوری کروں گا۔ اگر میں کسی مظلوم نوجوان کے قتل میں ماخوذ ہوں  اور مجھے یہ یقین ہو کہ میرا طاقتور خاندان مظلوم و مقتول  خاندان کے لواحقین کا جینا دوبھر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے تو میں عدالت سے سزا ملنے کے باوجود انگلیوں سے فتح کا نشان ضرور بناؤ ں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرا خاندان   مقتول کے ورثاء کو نسلی دشمنی  اور مزید لاشوں سے ڈرا نے دھمکا  نے کے بعد  خون بہا اور دیت کے قانون پر عمل کرنے پر مجبور کردے گا۔ اگر اس ملک میں کچھ بھی نہیں ہو تا مگر قانون کی حاکمیت اور بالادستی ہو  تی تو کیا کوئی بھی شخص ایسے گھناؤنے جرائم    کا ارتکاب  کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکتا تھا؟   شائد نہیں! کہ جس معاشرے  میں امیر   اور غریب  قانون کی نظروں میں برابر ہوں وہاں کا غریب بھی عزتِ نفس کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بہت عرصے پہلے ہمیں سمجھا دیا تھا  کہ "تم سے پہلے کی امتیں اس لیے برباد ہوگئیں کہ وہ اپنے طاقتور اور امیر افراد کے جرائم کو نظر انداز کردیتی تھیں اور اپنے کمزور و غریب افراد کو سزا دیتے تھے"(مفہوم)   ۔ 

واہگہ بارڈر کے واقعہ کے بعد میرے ایک عزیز دوست نے وہاں جا کر شہیدوں کے لیے دعا اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو میں نے اس کے خیال سےمکمل اتفاق کیا ۔ مگر میں اسے یہ نہیں بتا سکا کہ میں چاہنے کے باوجود سیالکوٹ کے دو مظلوم  بھائیوں کے والدین سے رابطے کی ہمت پیدا نہیں کر پایا جنہیں کوٹ رادھا کشن جیسے ہی مشتعل درندوں کے ہجوم نے  2010 کے رمضان میں شہید کر دیا تھا۔ کئی برس گزرنے کے باوجود سیالکوٹ کے ان دو بھائیوں پر تشدد کی وڈیو کو ایک نظر سے زیادہ نہیں دیکھ پایا ۔  جب بھی میں اپنے خاندان اور دوست احباب کے مرحومین کے لیے دعا  ئے مغفرت کرتا  ہوں تو منیب اور مغیث کا نام خود بہ خود میری زبان پر آجاتا ہے۔ ہم بھلے ساری زندگی معصوم ، مظلوم اور مجبور لوگوں کے لیے دعا کریں ، یہ بات طے ہے کہ قانون پر سختی سے عمل درآمد ہونے تک ایسے مظلومین کی تعداد بڑھتی ہی رہے گی۔

Sunday, 20 July 2014

رمضان المبارک

تقریباََ دو مہینوں کے وقفے کے بعد دوبارہ کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو رمضان کا اکیسواں روزہ ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان نہایت تیز رفتاری سے گزررہا ہے اور کچھ ہی دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان بہت ساری رحمتیں اور برکتیں اپنے دامن میں سمیٹ کر لایا ۔ ہمت والوں نے خوب محنت اور لگن سے اس مہینے میں اپنے حصے کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹیں۔ دوسری جانب ہمیں اسلامی معاشروں میں موجود بےحسی کا شدید مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔

اس مہینے کے آغاز سے ہی مظلوم فلسطینی عوام پر اسرائیل کی جارحانہ اور بے رحمانہ حملوں معصوم ومظلوم عورتوں اور بچوں کی شہادت کے کئی واقعات ہوئے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباَ چار سو (400) افراد اسرائیل کی اس جارحیت کا شکار بن چکے ہیں۔ مسلم ممالک، خاص طور سے عرب ممالک کی بے حسی بھی قابلِ دید ہے۔ ایک جانب سعودی عرب، مصر، کویت، اور اردن کی جانب سے کوئی ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا تو دوسری جانب پاکستان، ایران اور ترکی جیسے مضبوط دفاعی قوت رکھنے والے ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے کوئی شدید احتجاجی ردعمل دکھائی و سنائی نہیں دیا۔

پاکستان کے عوام حسبِ معمول رمضان شروع ہوتے ہی عید کی تیاریوں میں مگن ہو گئے۔ کہیں افطار پروگرام بن رہے ہیں تو کہیں سحری کی دعوت کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ حسبِ معمول میڈیا سے چلنے والے مختلف پروگراموں میں ہر ایک پروگرام ،اس عظیم مہینے کو بیچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ کہیں آم کھلائے جا رہے ہیں، کہیں غریبوں کے گھروں میں گھس کر ان کی بے بسی و بے کسی کو بیچا جا رہا ہے  اور کہیں غریبوں کی مدد کرنے کے نام پر ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔جو ذکر ہونا چاہیئے وہ سرے سے مفقود ہے، اکا دکا خبریں اسرائیل کی جارحیت اور فلسطینی مسلمانوں کے عزم و ہمت  کی چلے تو چلے ورنہ ایک طوفانِ بدتمیزی ہے جو سحر سے افطار تک اسلام کے اس مقدس مہینے کے نام پر چل رہا ہے۔

یہ سب لکھنے کا مقصد دل کی بھڑاس نکالنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیونکہ میں خود بھی اسی رویے کا شکار ہوں۔ صبح آفس ، افطار گھر میں اور پھر فیس بک اور ٹوئیٹر پر رات ہو جاتی ہے۔ معمول کی نمازیں اور تلاوت کو ہی رمضان کا اصل مقصد سمجھ بیٹھا ہوں۔ کوئی کوشش کردار، عمل، اور بے مقصد زندگی کو ٹھیک کرنے کے لیے نہیں کر سکا اور پورے بیس روزے گزر گئے۔

میری دعا ہے کہ ہم سب مسلمان اپنے رویے، عادت، اور نیت میں بھی مسلمان ہو جائیں اور تمام مسلمان ممالک ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک جسد کی طرح ہو سکیں۔ ایک کی تکلیف دوسرے کی تکلیف اور ایک کی راحت دوسرے کی راحت بن سکے۔ ہماری ضرورتیں اور وسائل مجتمع کی جائیں تو ہم باآسانی اپنی معاشی و سماجی مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔پیچھے رہ جائیں گی دنیاوی علوم اورایک مہذب معاشرے کی تشکیل تو وہ اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے ممالک اور ان کے رہن سہن ، عادات ومزاج کے مطابق کوششیں کرنی ہوں گی۔ یہ کوشش نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی ہونے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔اس کی شروعات  ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے کر سکتے ہیں۔


Monday, 12 May 2014

لا یعنی پوسٹ

یہ ایک لایعنی پوسٹ ہے۔ اگر آپ اس میں سے کوئی معنی یا مطلب نکالتے ہوئے پائے گئے تو اس فعل کو آپ کی نادانی سمجھا جائے گا ۔ ایسی پوسٹ عموماَ بھرتی کی ہوتی ہیں جن سے بلاگ کا پیٹ بھرا جاتا ہے اور تاریخوں کا ہیر پھیر کیا جاتا ہے۔ ویسے تو آج (یا کل)کی تاریخ میں بہت کچھ ہوا ہے ، جیسے کے لاہوراور اسلام آباد میں انتخابی دھاندلی کے خلاف  احتجاجی جلسے، ایک سنسنی خیز آئی پی ایل کا میچ اور ہم دوستوں کی ایک ٹیپ بال کرکٹ سیریز، لیکن یہ اتوار کو وقوع پذیر ہوا ہے  اور جب میں یہ لایعنی و بے معنی پوسٹ لکھ رہا ہوں تو پیر کی صبح ہونے میں کچھ ہی گھنٹے باقی ہیں۔ کیونکہ اب مجھے ایک بے انتہا چبھتے ہوئے سوال پوچھتی   "پیر" کا سامنا کرنا ہے اس لیے میں اس لایعنی و بے معنی پوسٹ کا خاتمہ کرتا ہو ں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میری طرح "پیر" چبھتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی ہو گی۔
 

Sunday, 4 May 2014

سلطان شہید

غینم چاروں اَور سے اس کی جانب بڑھا آ رہا تھا اور وہ بغیر کسی خوف کے ان کی جانب رخ کیے کھڑا تھا۔ اس کے مصاحبین میں سے ایک نے کہا کہ "سلطانِ مکرم جرات ودلیری دکھانے کا موقع یکسر ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ خود کو دشمن کے سپاہیوں پر ظاہر کر دیں تاکہ وہ آپ کی عزت و تکریم کریں اور آپ کونقصان نہ پہنچائیں۔ " آٖفرین ہے مگر اس شیر دلاور پر جس نے ایسے کڑے وقت میں بھی اپنے اوسان خطا نہ ہونے دیے اور کڑک کر اپنے مصاحب کو ڈانٹا اور وہ جملہ کہا جو اس کے بعد تاریخ میں امر ہوگیا  ۔ اس کے بعد جب کبھی انسانوں پر ایسا کڑا وقت آیا کہ اپنی جان یا عزت و وقار میں سے کسی ایک کا انتخاب کا معاملہ بن پڑا تو اسی ایک جملے کا سہارا لیا اور خود کو مصائب و الم جھیلنے کے لیے تیار کیا۔

"سعد آپ کیا کر رہے ہیں؟ کتاب کھول کر دیکھ رہے ہیں وہ بھی ایسے دھڑلے سے؟" میری استانی حیرت سے میری جانب دیکھتی ہوئی بولیں۔ یہ میری چوتھی جماعت  کا منظر ہے جو آج بھی میری اولین یادوں میں سے ایک ہے۔ جماعت میں ایک چھوٹا سا ٹیسٹ تھا اور ہمیں اردو کی کتاب کے ایک سبق کے بارے میں چند سوالوں کے جواب لکھ کردینے تھے۔ جیسے کہ اس وقت دستور تھا کہ بچے سوالات رٹ لیا کرتے تھے اور امتحانات میں من و عن اسے لکھ ڈالتے تھے۔ جو استاد نے لکھوا یا تھا ، اگر جواب ویسا ہی ہے یا پھر اس کے قریب بھی ہے تو جواب ٹھیک مانا جاتا تھا۔ آپ سے کسی قسم کی تحقیقی ، تخلیقی ، یا تجسس پر مبنی جوابات کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔ اب میری بدقسمتی کے میرا ذہن رٹنے کے معاملے میں ایک دم کودن تھا، جبکہ میرا تخیل اتنا وسیع و عریض کہ بیٹھے بیٹھے کسی سبق میں بتائے گئے منظر کو اپنے سامنے مجسم دیکھ لیا۔ ایسے ہی چوتھی جماعت میں اردو کی کلاس میں ایک دفعہ دو اسباق کے بارے میں ٹیسٹ ہوا جس میں سے ایک باب کے سوالات میں سرے سے ہی بھول گیا اور جب لکھنے کی باری آئی تو میرا ذہن دھلی ہوئی ہوئی تختی کی مانند کورا تھا۔ اب جوابات لکھنا بھی ضروری تھے اور اس بات کا مجھے کیا پوری کلاس کو علم تھا کہ مس ثمینہ کو کہانیاں سخت ناپسند ہیں۔ بھلے وہ نزلے زکام اور سر درد کی ہوں یا ہوم ورک گھربھول آنے کی کہانی ہو۔ تو ایسی مس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے لکھوائے ہوئے جوابات کی جگہ ایک کہانی دیکھ کر ایک چوتھی جماعت کے بچے کو معاف کر دیں گی تو یہ سرا سر آپ کی بھول ہے۔ تو میں نے کوشش کی کہ میز کے نیچے بنے ہوئے خانے میں رکھی ہوئی کتاب میں ایک جھانکی مار لوں اور جواب کچھ ملتا جلتا بنا لوں تو شائد میری بچت ہو جائے۔ تو جناب کتا ب کھولی، سبق ڈھونڈا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ اب جو پڑھا تو سوالات اور ٹیسٹ تو بھول گیا سبق میں کھو گیا۔ مس نے پکڑ لیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا وہ حصہ ہے جسے میں دہرانا زیادہ پسند نہیں کرتا، حالانکہ اگر یہ قصہ دہرا یا جائے تو آج کل کی جدید تربیت یافتہ استانیوں کے لیے باعث حیرت ہو گا کہ کیسے ہتھیلیوں ، گال اور شرم کے مسلسل ملاپ سے سرخ  رنگ کے مختلف شیڈز بنتے ہیں۔

سلطان فتح علی ٹیپوسے یہ میری پہلی واقفیت تھی۔ اس کےبعد بھی میں جہاں کہیں اس کے بارے میں کوئی کتاب، مضمون، مقالہ ، یا قصہ کہیں دیکھ لیتا تو جب تک اسے پڑھ نہیں لیتا تو جیسے چین نہیں ملتا تھا۔ سلطان ٹیپو  ایسی شخصیت تھے کہ ان کے ساتھیوں نے تو ان کی ذات و صفات کے گن گائے ہی ہیں، ان کے دشمنو ں نے بھی انہیں ہدیہ تبریک پیش کیا ہے۔ لارڈ ولزلی جس نےسلطان کے ساتھ آخری مقابلے میں انگریزوں، مرہٹہ اور نظام دکن کی مشترکہ فوجوں کی کمان کی تھی ، سلطان کی بہادری اور جانبازی دیکھ کر اسے شاہی اعزاز و اکرام کے ساتھ دفن کیا۔  سلطان کی زندگی اور موت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن ان کی زندگی کا سب سے تاریخی ماخذ سید میر حسن علی کرمانی کی فارسی میں لکھی ہوئی کتاب "نشانِ حیدری" ہے جو سلطان ٹیپو کی شہادت کے ٹھیک آٹھ سال بعد لکھی گئی۔  اس کتاب کا اردو ترجمہ جو میں نے پڑھا اس میں سلطان حیدر علی کے حالات واقعات بھی درج ہیں۔  یہ ایک نہایت بہترین اور تاریخی لحاظ سے درست ماخذ ہے جس سے دوسرے مورخین نے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔

سلطان ٹیپو کے بارے میں جو واقعات مجھے پسند ہیں میں وہ لکھتا ہوں  جو میں نے تاریخی لحاظ سے درست پائے ہیں۔ میں نے  غیر مصدقہ اور حقیقت سے بعید روایتیں لکھنے سے گریز کیا ہے جیسے مثال کے طور سے ایک روایت جس کے مطابق انگریز سپاہی تین دن تک خوف کی وجہ سے سلطان ٹیپو کی لاش کے قریب نہیں آسکے۔

سلطان حیدر علی کی نرینہ اولاد نہیں ہوئی تھی جس کے باعث وہ کافی پریشان رہا کرتا تھا۔ ارکاٹ میں ٹیپو مستان ولی کے نام سے ایک بزرگ بہت مشہور تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مستجاب الدعاتھے ۔ سلطان حیدر علی نے ان کے مزار پر حاضری دی اور منت مانی کہ اگر ان کو اولادِ نرینہ نصیب ہوئی تو ہ اس کا نام ٹیپو رکھیں گے۔ اللہ کی قدرت کے اُسی سال (دس نومبر 1750ء) میں سلطان کو اللہ نے اولادِ نرینہ سے نوازا اور سلطان نے اپنی منت پوری کرتے ہوئے اپنے بچے کا نام فتح علی ٹیپو رکھا ۔


سلطان حید ر علی کو اپنے صوبہ داری کے دور میں ایک محلاتی سازش کا شکار ہونا پڑا جس کی وجہ سے ان کےاہل ِ خانہ کو ایک گھر میں قید کر دیا گیا جبکہ حیدر علی ایک مہم  پر کسی دوسرے علاقے میں گئے ہوئے تھے۔ ٹیپو کی عمر اس وقت تقریباََ سات سال تھی اور وہ اپنے گھر کے صحن سے دوسرے بچوں کو کھیلتا دیکھتے تھے۔ ٹیپو سلطان نے خود بعد میں بیان کیا کہ میں ایک دن ایسے ہی کھڑا تھا کہ ایک بوڑھا شخص وہاں سے گزرا اور جب انہیں وہاں کھڑا دیکھا تو کہا " اے بچے تو عنقریب اس ملک کا بادشاہ بنے گا، جب تو بادشاہ بن جائے تو اس جگہ ایک مسجد تعمیر کروا دینا"۔ سلطان نے وعدہ کر لیا۔ جب ٹیپو سلطان اپنے والد کی وفات کے بعد تخت پر بیٹھے تو انہیں اپنا وعدہ یاد تھا اور انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق اس جگہ ایک شاندار مسجد تعمیر کروائی جس کا نام "مسجدِ اعلیٰ" ہے۔  

ایک دفعہ سلطان ٹیپو کے دربار میں ایک بزرگ آئے جن سے سلطان نے انگریزوں کے خلاف فتح حاصل کرنے کی درخواست کی، انہوں نے دربار میں بچھے ایک قالین کی طرف اشارہ کیا جس میں ایک شیر جھپٹتا ہو ادکھایا گیا تھا ۔ اس شیر کی پشت پر جھاڑیا ں تھیں جس میں ایک شخص چھپا بیٹھا تھا اور وہ شیر پر شُست باندھ رہا تھا۔ میدانِ جنگ میں یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی کہ سلطان دوبدو کسی مقابلے میں نہیں ہارا جب تک اس کی پشت پر موجود اس کے دربار کے لوگوں (میر صادق اور میر قمر الدین خان) نے اس سے غدار ی نہیں کی۔

انگریزوں  نے سنہ1792 ء میں سلطان  کے محل کے غداروں کی بہ دولت سرنگا پٹن کا محاصرہ کر لیا ، اسے میسور کی تیسری جنگ بھی کہا جاتا ہے۔  ٖغفار خان اور غازی الدین خان جیسے سرفروشوں کی وجہ سے مکمل شکست سے تو بچ گئے، مگر صلح کی شرائط کے طور پر سلطان کو اپنی سلطنت کا بہت بڑا حصہ چھوڑنا پڑا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے دوبیٹوں کو زرِ ضمانت کے طور پر انگریزوں کی تحویل میں دینا پڑا۔ جب یہ شرط پیش کی گئی تو انگریزوں کی طرف سے شاہی خاندان کے کوئی بھی دو فرد کی شرط پیش کی گئی تھی اور سلطان اپنے بھتیجوں، بھانجوں اور دوسرے رشتہ داروں کو بہ حکم ِ حاکم بھیج سکتا تھا لیکن  اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا  کہ کسی اور کی اولاد کو اس آزمائش کی گھڑی میں آگے کردے اور اپنی اولاد کو بچا لے، اسی لیے سلطان ٹیپو کے دو بیٹے معز الدین سلطان اور عبدالخالق سلطان کو بہ حیثیت کفیل انگریزوں کے سپرد کر دیا۔

دھوندو جی واگیہ ایک ڈاکو تھا لیکن بلا کا چست و چالاک اور دلیر انسان تھا۔ سلطان ٹیپو کے پاس مسلسل اس کی لوٹ مار ، بہادری اور غریبوں مسکینوں کی مدد کے واقعات پہنچ رہے تھے۔ آخر کار جب وہ گرفتار ہو کر پیش کیا گیا تو سلطا ن ٹیپو نے اسے معاف کر کے فوج کا عہدہ  پیش کیا ۔ دھوندو جی واگیہ جو اپنے قتل کے احکامات سننے کا منتظر تھا  ایسا لطفِ کریمانہ دیکھ کر بے اختیار کلمہ پڑھ بیٹھا اور سلطان ٹیپو نے اسے  ملک جہاں خان کا خطاب دیا۔ یہ وہ واحد شخص تھا جو سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد بھی انگریزوں سے برسر پیکار رہا ، جلال الدین خوارزم جو چنگیز خان کی فوجو ں کے آگے اپنی سلطنت ہارنے کے بعد بھی سینہ سپر ہو گیا تھا،  کی طرح ملک جہاں خان بھی انگریزوں سے چھاپہ مار لڑائی لڑتا رہا  ۔اس کے انجام کے بارے میں تاریخ خاموش ہے لیکن اس کی وفاداری اور دلیری کے قصے تاریخ کا حصہ بن گئے۔

مئی 1799 : دشمنوں کا سیل بے پناہ قلعہ سرنگا پٹن کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا۔ ایسے نازک موقع پر سلطان نے کسی اور جگہ منتقل ہو نے کااردہ نہیں کیا اور آخری وقت تک جان لڑانے کا فیصلہ کر لیا۔ قمر الدین خان اور میر صادق کی غداری کی وجہ دشمن روز بروز قلعے پر چڑھا آتا تھا اور سلطانی لشکر کو مون سون کی اس بارش کا انتظار تھا جو دریائے کاویری کو بھر دیتی اور دشمن کی اس بے پناہ قوت اور غداروں کی اس سازش کو بھی ناکام بنا دیتی، لیکن شائد قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔  4  مئی 1799 ء کو منجموں کا ایک گروہ سلطان کے حضور پیش ہوا اور کہا کہ" آج کا دن آپ کے لیے روزِ بد ہے اور آج دوپہر کی ساتویں گھڑی آپ پر بھاری رہے گی اور قلعہ کے اطراف بھی نحوست گرد اڑاتی رہے گی ۔ بہتر ہے کہ حضرت شام تک لشکر کے جلو میں رہیں اور راہِ خدا میں صدقہ دیں"۔ اگرچہ سلطان کو یہ رائے گوارا نہیں تھی، لیکن پھر بھی صدقہ کا سامان تیار کرنے کا حکم دے دی۔ صدقہ و خیرات کرنے کے بعد سلطان ٹیپو دستر خوان پر بیٹھا اور ایک لقمہ تناول کیا ، ابھی دوسرا لقمہ اٹھایا ہی تھا کہ شہر کی طرف سے آہ وفغاں کا شور اٹھا۔ اس شور کے سنتے ہی سلطان ٹیپو نے دوسرا لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا اور پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے؟ مصاحبین نے بازپرس کے بعد عرض کی "سید غفار(جو سرنگا پٹن کا قلعہ دار اورنہایت جری اور وفادار سپہ سالار تھا)  دشمن کی توپ کا گولہ لگنے سے حضور پر قربان ہو گیا ہے اور دشمن قلعہ پر بلا مزاحمت چڑھا آرہا ہے"۔

سلطان ٹیپو نے ہاتھ دھو لیے اور کہا "بس ہم بھی چلے" یہ کہا اور باہر آکر ایک گھوڑی پر سوار ہوئے اور چند  جانثاروں کے ساتھ ندی کی جانب والے دریچہ میں سے ہوتا ہوا قلعہ سے باہر نکلا اور مغربی مورچے کی جانب سے دشمنوں پر حملہ کرنے کےلیے گھوڑی کو ایڑلگائی۔ ایسے نازک موقع پر جب دشمن فصیل توڑ کر اندر داخل ہوا چاہتا تھا میر صادق نے سپاہیوں کو تنخواہ دینے کے بہانے فصیل سے ہٹا لیا اور دشمن خالی فصیل پا کر اندر تک دَر آیا۔ جب تک سلطان محاذ تک پہنچا تو دشمن قلعے کے اندرپہنچ چکا تھا۔ غینم چاروں جانب سے اس کی جانب بڑھا آ رہا تھا اور وہ بغیر کسی خوف کے ان کی جانب رخ کیے کھڑا تھا۔ اس کے مصاحبین میں سے ایک نے کہا کہ "سلطانِ مکرم جرات ودلیری دکھانے کا موقع یکسر ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ خود کو دشمن کے سپاہیوں پر ظاہر کر دیں تاکہ وہ آپ کی عزت و تکریم کریں اور آپ کونقصان نہ پہنچائیں۔ " آٖفرین ہے مگر اس شیر دلاور پر جس نے ایسے کڑے وقت میں بھی اپنے اوسان خطا نہ ہونے دیے اور کڑک کر اپنے مصاحب کو ڈانٹا اور کہا "شیر کی ایک دن کی زندگی، گیڈر کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے"۔  یہ کہہ کر دشمن کے ایک گروہ پر شیر کی طرح جھپٹ پڑے۔ جگہ نہایت تنگ تھی، پھر بھی انہوں نے بندوق اور تلوار سے دو تین سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور پھر ایک سپاہی کی بندوق سے نکلی گولی اس عظیم بادشاہ کا چہرہ زخمی کر گئی۔ سلطان ٹیپو زخم کھا کر گرا   تو کسی انگریز سپاہی نے اس کو مردہ جان کر اس کے قیمتی کمر بند پر ہاتھ ڈالا اور کھینچنے لگا، سلطان ٹیپو نے جسم کی آخری تمام قوت مجتمع کر کے اپنی تلوار سے ایک کاری وارکیا اور اس سپاہی کا ہاتھ کٹ کر جسم سے الگ ہو گیا۔ ایک دوسرے انگریز سپاہی نے سلطان کے چہرے کے بالکل سامنے رکھ کر بندوق داغی اور یہ شیروں کی طرح جینے والا سلطان نے جامِ شہادت نوش کیا۔ انا للہ وانا علیہ راجعون۔

رات سر پر آپڑی  مگر انگریز سپہ سالار مطمئن نہیں تھا کیونکہ سلطان کی نعش کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں تھا۔ آخر کار کسی نے اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں سلطان شہید ہوئے تھے اور انگریزوں کو کئی لاشوں کے نیچے دبی ہوئی اس بطلِ جلیل کا جسم مل گیا۔ شاہی خاندان کے افراد اور دوسرے لوگوں سلطان ٹیپو کے وجود کی شناخت کے بعد انگریزوں نے اگلے دن پورے فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کی اجازت دی اور سلطان ٹیپو کو سرنگا پٹن کے قلعے میں اس کے والدکے پہلو میں دفن کر دیاگیا۔ سلطان کی وفات   کے وقت ایسا زوروں   کا طوفان آیا کہ ایک انگریز فوجی اپنے روزنامچے میں لکھتا ہے کہ "میں نے اپنی زندگی میں کئی سمندری طوفان اور بارشیں دیکھیں ہیں، لیکن میں نے کبھی ایسی شدت کا طوفان اپنی زندگی میں نہیں دیکھا"۔یہ وہی مون سون کی بارش تھی جس کا سلطان ٹیپو کے وفادار سپاہیوں کو انتظار تھا۔

مشتاق احمد یوسفی اپنی کتاب "آبِ گم"(صٖفحہ 309) میں لکھتے ہیں" انہیں یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا  کہ حلوائی اور بچے اس کتے کو ٹیپو! ٹیپو! کہہ کر بلا اور دھتکار رہے تھے۔ سرنگا پٹم کی خون آشام جنگ میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے کثرت سے کتوں کا نام ٹیپورکھنا شروع کر دیا تھا۔ اور ایک زمانے میں یہ نام شمالی ہندوستان میں اتنا عام ہوا کہ خود ہندوستانی بھی آوارہ و بے نام کتوں کو ٹیپو کہہ کر ہی بلاتے اور ہشکارتے تھے۔ یہ جانے بغیر کہ خود کتوں کا یہ نام کیسے پڑا۔ باستثنائے نپولین اور ٹیپو سلطان، انگریزوں نے ایسا سلوک اپنے کسی اور دشمن کے ساتھ روا نہیں رکھا۔ اس لیے کہ کسی اور دشمن کی ان کے دل میں ایسی ہیبت اور دہشت کبھی نہیں بیٹھی تھی۔ برِصغیر کے کتے سو سال تک سلطان شہید کے نام سے پکارے جاتے رہے۔ کچھ برگزیدہ شہید ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی آزمائش، عقوبتِ مطہرہ، اور شہادتِ عظمیٰ ان کی موت  کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ رب جلیل انہیں شہادتِ جاریہ کی سعادت سے سرفراز فرماتا ہے۔ " 

Saturday, 26 April 2014

About Urdu


اردوہے جس کا نام، ہمیں جانتے ہیں داؔغ
سارے جہاں میں دُھوم ہماری زباں کی ہے

Urdu is the national language of Pakistan and it is also a prominent language (either spoken or understood) within South Asian region. Many people in countries like India, Bangladesh, Afghanistan, and Sri Lanka at least understand it and may speak some broken Urdu as well. This pretty much makes it a prominent language in a region where more than one seventh population of the world lives.

Of course there are a lot of languages spoken within the region, but I personally think that most people can speak and understand Urdu or broken Urdu one way or another. It is my personal opinion and experience which I have found during my travelling within Pakistan. However, I feel to experience this a little more in India, Iran, Afghanistan and Bangladesh. My brother who has visited Sri Lanka and Bangladesh and he told me that Sri Lankan and Bangladeshi people can understand Urdu, however they termed it as “Hindi” which is not true as the term “Hindi” refers to a language spoken in India with its origin in “Sanskrit” and has a totally different lexigraph.

The word “Urdu” is derived from Turkish language which literally means “Lashkari” (a soldier who lives in a camp). According to a myth, after capturing Delhi in 1526, Mughal emperors gradually built an army consisting of Arab, Persian, Afghan, Turk and Hindustani soldiers. All these soldiers used to live in a camp outside Delhi. In that “camp” they used to communicate with each other. They shared words from each other’s languages to get the message across, this turned out to be the origin of a new language which comprises the words from every language spoken in the camp. It was supposed to be the first form of “Urdu” language. So, Urdu was a language used by soldiers from different nations to communicate with each other. However, modern day researchers do not agree with this approach. It is a very difficult task to know the exact origin of Urdu language, as there are a lot of theories about this subject. I will try to cover some of those theories in another post.

Urdu has 32 alphabets and most of these alphabets are also present in Persian and Arabic.  Below is an image which shows all of the Urdu alphabets.

Urdu Alphabets (Image Source: Arabic Calligraphy)

I hope you have enjoyed this post and will share it within your social circle. Please keep me posted through comments, feedback & suggestions for further improvement.

Tuesday, 15 April 2014

سوچنے اور لکھنے کا عمل

لکھیں تو کیا لکھیں اور کیوں لکھیں؟ ایسا کیا ہے اس لکھنے میں اس کام کو پایہ تکمیل پہنچانے میں جان ایسی اذیت میں ڈالی جاتی ہے۔ سوچنے کی اذیت۔ کیونکہ سوچنے کی اذیت سے زیادہ تکلیف دہ عمل اور کوئی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو شعور حاصل کرنے کے بعد سے مسلسل چلتا رہتا ہے اور اگربندہ حساس بھی ہو تو یہ سوچنے کا عمل بعض دفعہ بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔اس لیے سوچنے کے اس عمل کو فی الحال ترک کرتے ہیں اور جو کچھ ذہن میں آتا جا رہا ہے اسے لکھنے کی کوشش کریں۔
کیوں تو اچھا لگتا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
تجھ میں کیا کیا دکھتا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
سارا شہر شناسائی کا دعوے دار تو ہے لیکن
کون ہمارا اپنا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
ہم نے اس کو لکھا تھا کچھ ملنے کی تدبیر کرو
اس نے لکھ کر بھیجا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
موسم ، خوشبو، بادِ صبا، چاند شفق اور تاروں میں
کون تمہارے جیسا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
یا تم اپنے دل کی مانو، یا پھر دنیا والوں کی
مشورہ اس کا اچھا ہے وقت ملا تو سوچیں گے