Sunday, 20 July 2014

رمضان المبارک

تقریباََ دو مہینوں کے وقفے کے بعد دوبارہ کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو رمضان کا اکیسواں روزہ ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان نہایت تیز رفتاری سے گزررہا ہے اور کچھ ہی دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان بہت ساری رحمتیں اور برکتیں اپنے دامن میں سمیٹ کر لایا ۔ ہمت والوں نے خوب محنت اور لگن سے اس مہینے میں اپنے حصے کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹیں۔ دوسری جانب ہمیں اسلامی معاشروں میں موجود بےحسی کا شدید مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔

اس مہینے کے آغاز سے ہی مظلوم فلسطینی عوام پر اسرائیل کی جارحانہ اور بے رحمانہ حملوں معصوم ومظلوم عورتوں اور بچوں کی شہادت کے کئی واقعات ہوئے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباَ چار سو (400) افراد اسرائیل کی اس جارحیت کا شکار بن چکے ہیں۔ مسلم ممالک، خاص طور سے عرب ممالک کی بے حسی بھی قابلِ دید ہے۔ ایک جانب سعودی عرب، مصر، کویت، اور اردن کی جانب سے کوئی ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا تو دوسری جانب پاکستان، ایران اور ترکی جیسے مضبوط دفاعی قوت رکھنے والے ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے کوئی شدید احتجاجی ردعمل دکھائی و سنائی نہیں دیا۔

پاکستان کے عوام حسبِ معمول رمضان شروع ہوتے ہی عید کی تیاریوں میں مگن ہو گئے۔ کہیں افطار پروگرام بن رہے ہیں تو کہیں سحری کی دعوت کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ حسبِ معمول میڈیا سے چلنے والے مختلف پروگراموں میں ہر ایک پروگرام ،اس عظیم مہینے کو بیچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ کہیں آم کھلائے جا رہے ہیں، کہیں غریبوں کے گھروں میں گھس کر ان کی بے بسی و بے کسی کو بیچا جا رہا ہے  اور کہیں غریبوں کی مدد کرنے کے نام پر ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔جو ذکر ہونا چاہیئے وہ سرے سے مفقود ہے، اکا دکا خبریں اسرائیل کی جارحیت اور فلسطینی مسلمانوں کے عزم و ہمت  کی چلے تو چلے ورنہ ایک طوفانِ بدتمیزی ہے جو سحر سے افطار تک اسلام کے اس مقدس مہینے کے نام پر چل رہا ہے۔

یہ سب لکھنے کا مقصد دل کی بھڑاس نکالنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیونکہ میں خود بھی اسی رویے کا شکار ہوں۔ صبح آفس ، افطار گھر میں اور پھر فیس بک اور ٹوئیٹر پر رات ہو جاتی ہے۔ معمول کی نمازیں اور تلاوت کو ہی رمضان کا اصل مقصد سمجھ بیٹھا ہوں۔ کوئی کوشش کردار، عمل، اور بے مقصد زندگی کو ٹھیک کرنے کے لیے نہیں کر سکا اور پورے بیس روزے گزر گئے۔

میری دعا ہے کہ ہم سب مسلمان اپنے رویے، عادت، اور نیت میں بھی مسلمان ہو جائیں اور تمام مسلمان ممالک ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک جسد کی طرح ہو سکیں۔ ایک کی تکلیف دوسرے کی تکلیف اور ایک کی راحت دوسرے کی راحت بن سکے۔ ہماری ضرورتیں اور وسائل مجتمع کی جائیں تو ہم باآسانی اپنی معاشی و سماجی مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔پیچھے رہ جائیں گی دنیاوی علوم اورایک مہذب معاشرے کی تشکیل تو وہ اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے ممالک اور ان کے رہن سہن ، عادات ومزاج کے مطابق کوششیں کرنی ہوں گی۔ یہ کوشش نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی ہونے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔اس کی شروعات  ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے کر سکتے ہیں۔


Sunday, 18 May 2014

ضمیر اور قومی احساس

جیو اور اے آر وائی کی جنگ میں  ہمارا ضمیر اور قومی احساس تباہ ہور ہا ہے۔ لیکن کسی کو بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ دونوں طرف سے الزامات کی بوچھاڑ ہے اور دونوں طرف علماء کرام اپنا وزن ڈال کر پلڑا بھاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نہایت احترام کے ساتھ عرض ہے کہ یہ صرف چندعلماء کرام کا وطیرہ نہیں ہے۔ پوری قوم من جملہ میڈیا اداروں کے، اسی رویے پر عمل پیرا ہے۔ ڈان، ایکسپریس، جنگ، نوائے وقت، دنیا، اور دی نیوز کونسا ادارہ ایسا ہے جو اپنے مخالفین کی بھد اڑانے کے لیے بھاڑے کے ٹٹوؤں کو اپنے ادارے میں شامل نہیں کرتا۔ ہر ادارے کے اپنے پسندیدہ نظریات وافکار ہیں اور وہ دن رات اس کے پرچار میں اور اپنے مخالفین کا تیا پانچہ کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ یہ پہلی دفعہ ہوا کہ اپنا ہی ہتھیار خود اپنے خلاف استعمال ہوگیا ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں۔ ایک طرف سے آزادیِ اظہار رائے پر ضرب لگانے کے دعوے کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب سے پیشہ ورانہ ذمہ داری میں غفلت برتنے کا الزام کا ورد کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ بہتی گنگا میں سب نے ہاتھ دھوئے ہیں۔ نا جیو اتنا سیدھا ہے نا اے آر وائی، ونوں کو اپنے مفادات عزیز ہیں جن میں سب سے اول درجہ پیسے کا ہے۔ رمضان کی آمد آمد ہے، دونوں ادارے اسلام اور رمضان کے نام پر اپنے صارفین کو عامر لیاقت اور شائستہ واحدی جیسے "مبلغین اسلام" کے ذریعے اسلامی تعلیمات سے روشناس کروائیں گے۔ بکےگا تو صرف ضمیر، موت ہو گی توفرض شناسی کی، اور بے وقوف بنے گی تو یہ بیس کروڑ عوام جو سحروافطار کے دوران انہی لوگوں کے ارشادات عقیدت مندی سے دیکھ رہے ہوں گے۔ جو بکتا ہے بیچ دو، جو نہیں بکتا اسے پھینک دو۔ جہاں سے ملتا ہے لے لو۔ کہاں، کیوں اور کیسے کے سوالات چھوڑ دو۔

Monday, 12 May 2014

لا یعنی پوسٹ

یہ ایک لایعنی پوسٹ ہے۔ اگر آپ اس میں سے کوئی معنی یا مطلب نکالتے ہوئے پائے گئے تو اس فعل کو آپ کی نادانی سمجھا جائے گا ۔ ایسی پوسٹ عموماَ بھرتی کی ہوتی ہیں جن سے بلاگ کا پیٹ بھرا جاتا ہے اور تاریخوں کا ہیر پھیر کیا جاتا ہے۔ ویسے تو آج (یا کل)کی تاریخ میں بہت کچھ ہوا ہے ، جیسے کے لاہوراور اسلام آباد میں انتخابی دھاندلی کے خلاف  احتجاجی جلسے، ایک سنسنی خیز آئی پی ایل کا میچ اور ہم دوستوں کی ایک ٹیپ بال کرکٹ سیریز، لیکن یہ اتوار کو وقوع پذیر ہوا ہے  اور جب میں یہ لایعنی و بے معنی پوسٹ لکھ رہا ہوں تو پیر کی صبح ہونے میں کچھ ہی گھنٹے باقی ہیں۔ کیونکہ اب مجھے ایک بے انتہا چبھتے ہوئے سوال پوچھتی   "پیر" کا سامنا کرنا ہے اس لیے میں اس لایعنی و بے معنی پوسٹ کا خاتمہ کرتا ہو ں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میری طرح "پیر" چبھتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی ہو گی۔